پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لارڈز ٹیسٹ کے لنچ بریک کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا 18 منٹ طویل انٹرویو نشر کرنے پر اسکائی اسپورٹس سے باضابطہ شکایت کی ہے۔
پی سی بی کا مؤقف ہے کہ کھیل کے پلیٹ فارم کو سیاسی یا عدالتی معاملات کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے خلاف میچ کوریج سے الگ ہونے کا احتجاج بالکل جائز ہوگا۔
آئی سی سی کے ضوابط (2.20 اور 2.21) اور برطانوی نشریاتی ادارے آف کام کے قواعد کھیلوں کی کوریج کو سیاسی تنازعات سے پاک اور غیر جانب دار رکھنے کا پابند بناتے ہیں۔
بورڈ نے انکشاف کیا کہ نشریات سے قبل ہی انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) اور اسکائی اسپورٹس کو خبردار کر دیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود پروگرام نشر کر کے میچ کی ساکھ کو متاثر کیا گیا۔
کمنٹیٹر مائیکل ایتھرٹن کے کردار پر بھی شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں، کیونکہ وہ اس سے قبل عمران خان کے حق میں خط پر دستخط کر چکے ہیں اور انہوں نے صحافتی رسائی کو ایک مخصوص بیانیے کے لیے استعمال کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرکٹ کمنٹیٹر کو اپنے منصب کا احاطہ چھوڑ کر کسی سیاسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا اور ای سی بی کو بھی اس سیاسی مداخلت کی وضاحت دینی ہوگی۔
اس معاملے پر مغربی میڈیا کے دوہرے معیار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ اگر کھیلوں کے پلیٹ فارم اس موضوع کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں تو غزہ یا مقبوضہ کشمیر کے مظالم کو ایسی جگہ کیوں نہیں دی جاتی۔
موقف میں مزید کہا گیا کہ سلیمان اور قاسم خان کے پاس درست نائکوپ موجود ہیں اور وہ پاکستانی شہری کے طور پر بغیر ویزا پاکستان آ کر اپنے والد سے قانونی طریقے سے مل سکتے ہیں۔
عمران خان کے بارے میں ‘تنہائی’ کے تاثر کو رد کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کے سو سے زائد طبی معائنے، سینکڑوں پیشیاں اور سینکڑوں افراد سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور وہ سزا یافتہ قیدی ہیں نہ کہ سیاسی جلاوطن۔
پی سی بی اور سیکیورٹی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی سی سی کرکٹ کو سیاست سے پاک رکھنے کے لیے مائیکل ایتھرٹن پر کمنٹری کی پابندی اور اسکائی اسپورٹس کے نشریاتی حقوق کی معطلی جیسے سخت اقدامات کرے۔