"> طالبان سفیر کا این ڈی یو مؤقف، اقوام متحدہ کی رپورٹس کیا کہتی ہیں؟
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

طالبان سفیر کا این ڈی یو خطاب: بیان بازی زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتی

طالبان سفیر کے این ڈی یو خطاب کے بعد افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کی موجودگی سے متعلق اقوام متحدہ اور علاقائی رپورٹس ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئیں۔
طالبان سفیر کا این ڈی یو مؤقف

طالبان سفیر کے مؤقف کے برعکس اقوام متحدہ اور علاقائی رپورٹس افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔

September 2, 2026

طالبان حکومت کے سفیر نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو مبہم الزامات اور فوجی کارروائی کے جواز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم یہ بیانیہ دستیاب شواہر پر پورا نہیں اترتا۔ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے خدشات محض قیاس پر مبنی نہیں اور نہ ہی یہ صرف ماضی کا مسئلہ ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس معاملے کو بارہا دستاویزی شکل دے چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی فروری 2026 کی رپورٹ اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے ٹی ٹی پی کو زیادہ آزادی اور حمایت فراہم کرنا جاری رکھا، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں ٹی ٹی پی کو افغانستان میں سرگرم بڑے دہشت گرد گروہوں میں شامل قرار دیا گیا ہے۔ اس میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کے خلاف ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے اور پیچیدہ حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق کسی بھی رکن ملک نے طالبان کے اس دعوے کی حمایت نہیں کی کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی افغانستان میں القاعدہ، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ ان رپورٹس میں طالبان حکام کی جانب سے منتقل کیے گئے ہتھیاروں تک بعض گروہوں کی رسائی کا بھی ذکر ہے۔ دسمبر 2025 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ بھی افغانستان میں جاری سکیورٹی مسئلے کا اہم ریکارڈ پیش کرتی ہے۔

یہ معاملہ صرف پاکستان کے جائزے تک محدود نہیں۔ روس کی سکیورٹی قیادت بھی افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرے پر متعدد بار تشویش ظاہر کرچکی ہے۔

روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شویگو کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد عالمی شدت پسند گروہ سرگرم ہیں، جن میں جنگجوؤں کی تعداد 23 ہزار تک ہوسکتی ہے۔ روس کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے بھی ٹی ٹی پی کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور پاکستان کے ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق خدشات کو تسلیم کیا۔

ستمبر 2025 میں روس، چین، ایران اور پاکستان پر مشتمل ایک علاقائی بیان میں بھی القاعدہ، داعش خراسان، ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروہوں کی افغانستان میں سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی گئی۔ بیان میں طالبان پر زور دیا گیا کہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔

اس صورتحال میں بنیادی سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی سے متعلق مخصوص معلومات ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ طالبان حکومت ایک ایسی دہشت گرد تنظیم کو کیوں برداشت کر رہی ہے، جس کی افغانستان میں موجودگی اور سرگرمیوں کی اقوام متحدہ اور علاقائی طاقتیں بارہا نشاندہی کرچکی ہیں۔

پاکستان نے بھی فوری طور پر فوجی کارروائی کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اسلام آباد نے کئی برس تک کابل کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھے، ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں کا معاملہ اٹھایا، معلومات فراہم کیں اور افغان حکام سے یقین دہانیاں حاصل کرنے کی کوشش کی۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی کابل کے ساتھ ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے پر مسلسل رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ افغان فریق نے بعض مواقع پر پاکستان کے خدشات پر غور کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی، تاہم متعدد سفارتی کوششوں کے باوجود مسئلہ برقرار رہا۔

طالبان سفیر کا یہ مؤقف کہ افغانستان پاکستان کے اپنے سکیورٹی مسائل پر براہ راست بات چیت چاہتا ہے، بھی بنیادی سوال کو تبدیل نہیں کرتا۔ پاکستان اپنے ملک میں سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ طالبان حکومت کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ، تربیتی مرکز یا لانچ پیڈ نہ بنے۔

ٹی ٹی پی کو محض ایک دوطرفہ سیاسی تنازع کا فریق قرار دینا بھی اصل مسئلے کو دھندلا دیتا ہے۔ ٹی ٹی پی ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس کی افغانستان میں موجودگی اور پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کی مختلف عالمی اور علاقائی رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے۔ طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان دیرینہ نظریاتی، تنظیمی اور شخصی روابط بھی کابل کے مؤقف کو مزید سوالات کی زد میں لاتے ہیں۔

اسی طرح طالبان 2.0 کی اصطلاح بھی اس بات کا ثبوت نہیں کہ افغانستان بنیادی طور پر تبدیل ہوچکا ہے۔ سفارتی زبان میں تبدیلی، عالمی فورمز پر شرکت، انگریزی میں خطاب یا دوحہ میں کئی برس کے مذاکراتی تجربے سے کسی تنظیم کے بنیادی نظریے اور طرز حکمرانی میں تبدیلی خود بخود ثابت نہیں ہوتی۔

دوہزار اکیس کے بعد کے حالات میں بھی 1990 کی دہائی کے طالبان دور سے کئی پہلوؤں میں تسلسل نظر آتا ہے۔ ان میں عالمی دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ ماحول، سیاسی شمولیت کی محدود گنجائش، خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں اور سیاسی و نسلی تنوع کو محدود کرنا شامل ہیں۔

اقوام متحدہ اور دیگر عالمی جائزوں میں دہشت گردی، سیاسی عدم شمولیت اور خواتین و لڑکیوں پر سخت پابندیوں کو افغانستان کے اہم حل طلب مسائل میں شمار کیا جاتا ہے۔

طالبان سفیر دنیا سے یہ توقع نہیں کرسکتے کہ افغانستان کو صرف موجودہ بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے اور موجودہ زمینی حقائق کو نظر انداز کردیا جائے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ طالبان نئی سیاسی حقیقت کو کیا نام دیتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس حقیقت کے عملی نتائج کیا ہیں۔

اگر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں اور عملی سہولت دستیاب رہتی ہے تو پاکستان کو اپنے شہریوں اور سرزمین کے تحفظ کا حق ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی حاصل ہے۔

طالبان حکومت کو پاکستان کے سکیورٹی مسائل پر اعتراض کرنے کے بجائے افغان سرزمین پر سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر توجہ دینی چاہیے۔

افغانستان کو اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی، جبکہ پاکستان اپنی سلامتی اور اپنے شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری خود ادا کرے گا۔

دیکھیے: دس افغان صوبوں میں کارروائیاں، طالبان مخالف مزاحمت میں نئی لہر

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری سے 18 مزدور اغوا کرلیے۔

October 18, 2026

کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

October 18, 2026

افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

October 18, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

October 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *