"> افغانستان کی ایک ٹریلین ڈالر معدنی دولت، طالبان دھڑوں میں کنٹرول کی کشمکش
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

افغانستان: معدنی وسائل پر طالبان دھڑوں میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی

: طالبان میں افغان معدنی وسائل پر کنٹرول اور آمدنی کی کشمکش شدت اختیار کرگئی۔
: طالبان میں افغان معدنی وسائل پر کنٹرول اور آمدنی کی کشمکش شدت اختیار کرگئی۔

افغان معدنی وسائل پر طالبان دھڑوں میں کنٹرول کی دوڑ تیز ہوگئی، مقامی آبادی فوائد سے محروم۔

September 2, 2026

افغانستان کے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی وسائل طالبان حکومت کے اندر طاقت اور مالی وسائل پر کنٹرول کی کشمکش کا اہم مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق معدنی دولت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر طالبان کی قندھار قیادت اور حقانی نیٹ ورک سے منسلک دھڑوں کے درمیان اثر و رسوخ کی دوڑ جاری ہے، جبکہ معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں کے مقامی آبادیوں کو اس دولت کا محدود فائدہ پہنچ رہا ہے۔

افغانستان کے اہم معدنی ذخائر مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بامیان اور دایکندی میں تانبے اور کوئلے کے ذخائر، بدخشان میں قیمتی پتھروں اور لاجورد کے ذخائر جبکہ بلخ اور سرپل میں گیس اور کوئلے کے وسائل موجود ہیں۔

مشرقی علاقوں، خصوصاً ننگرہار اور لوگر میں بھی تانبے، قیمتی پتھروں اور دیگر معدنی وسائل کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی علاقے غیر پشتون آبادیوں پر مشتمل ہیں، جو وسائل کے باوجود معاشی فوائد سے بڑی حد تک محروم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے قندھار سے اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے ریاستی آمدنی کے اہم ذرائع پر مرکزی کنٹرول بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

دوسری جانب حقانی نیٹ ورک نے 2021 کے بعد کسٹمز، بندرگاہوں اور پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ جیسے آمدنی پیدا کرنے والے اہم اداروں میں اثر و رسوخ قائم کیا، جس سے ریاستی مالی وسائل پر اس کے اثرات بڑھے۔ بعد ازاں قندھار قیادت نے کسٹمز اور بندرگاہوں سے حقانی دھڑے سے وابستہ بعض اہلکاروں کو ہٹا کر اپنے وفادار افراد تعینات کیے۔

معدنی شعبہ بھی اسی اندرونی طاقت کی کشمکش سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ مبینہ طور پر کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی کے شفاف استعمال کے بجائے اس پر بااثر طالبان دھڑوں کا کنٹرول بڑھ رہا ہے۔ جون 2026 میں قندھار قیادت کی جانب سے تقریباً ایک ہزار خصوصی فورسز کو بدخشان بھیجے جانے کو بھی معدنی کانوں پر مرکزی کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔

افغانستان کے معدنی وسائل پر جاری کشمکش کا ایک اہم پہلو مقامی آبادی کا نقصان بھی ہے۔ بدخشان، بامیان، دایکندی اور دیگر معدنی علاقوں میں رہنے والی تاجک، ہزارہ اور ازبک برادریاں ان وسائل کے قریب آباد ہیں، تاہم معدنی دولت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ مقامی ترقی کے بجائے طاقت کے مراکز تک پہنچنے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔

کان کنی کے موجودہ نظام سے متعلق رپورٹس میں بچوں سے مشقت، ماحولیاتی نقصان اور مقامی آبادیوں کی ممکنہ بے دخلی جیسے مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

یوں افغانستان کی معدنی دولت عام شہریوں کی خوشحالی کا ذریعہ بننے کے بجائے طالبان کے اندر مالی اور سیاسی طاقت کے حصول کی کشمکش کا حصہ بنتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں وسائل سے مالا مال صوبے اخراجات اور نقصانات برداشت کر رہے ہیں جبکہ فیصلوں اور آمدنی پر مرکزی طاقت کے مراکز کا اثر بڑھ رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری سے 18 مزدور اغوا کرلیے۔

October 18, 2026

کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

October 18, 2026

افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

October 18, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

October 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *