افغانستان کے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی وسائل طالبان حکومت کے اندر طاقت اور مالی وسائل پر کنٹرول کی کشمکش کا اہم مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق معدنی دولت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر طالبان کی قندھار قیادت اور حقانی نیٹ ورک سے منسلک دھڑوں کے درمیان اثر و رسوخ کی دوڑ جاری ہے، جبکہ معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں کے مقامی آبادیوں کو اس دولت کا محدود فائدہ پہنچ رہا ہے۔
افغانستان کے اہم معدنی ذخائر مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بامیان اور دایکندی میں تانبے اور کوئلے کے ذخائر، بدخشان میں قیمتی پتھروں اور لاجورد کے ذخائر جبکہ بلخ اور سرپل میں گیس اور کوئلے کے وسائل موجود ہیں۔
مشرقی علاقوں، خصوصاً ننگرہار اور لوگر میں بھی تانبے، قیمتی پتھروں اور دیگر معدنی وسائل کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی علاقے غیر پشتون آبادیوں پر مشتمل ہیں، جو وسائل کے باوجود معاشی فوائد سے بڑی حد تک محروم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے قندھار سے اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے ریاستی آمدنی کے اہم ذرائع پر مرکزی کنٹرول بڑھانے کی کوشش کی ہے۔
دوسری جانب حقانی نیٹ ورک نے 2021 کے بعد کسٹمز، بندرگاہوں اور پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ جیسے آمدنی پیدا کرنے والے اہم اداروں میں اثر و رسوخ قائم کیا، جس سے ریاستی مالی وسائل پر اس کے اثرات بڑھے۔ بعد ازاں قندھار قیادت نے کسٹمز اور بندرگاہوں سے حقانی دھڑے سے وابستہ بعض اہلکاروں کو ہٹا کر اپنے وفادار افراد تعینات کیے۔
معدنی شعبہ بھی اسی اندرونی طاقت کی کشمکش سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ مبینہ طور پر کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی کے شفاف استعمال کے بجائے اس پر بااثر طالبان دھڑوں کا کنٹرول بڑھ رہا ہے۔ جون 2026 میں قندھار قیادت کی جانب سے تقریباً ایک ہزار خصوصی فورسز کو بدخشان بھیجے جانے کو بھی معدنی کانوں پر مرکزی کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔
افغانستان کے معدنی وسائل پر جاری کشمکش کا ایک اہم پہلو مقامی آبادی کا نقصان بھی ہے۔ بدخشان، بامیان، دایکندی اور دیگر معدنی علاقوں میں رہنے والی تاجک، ہزارہ اور ازبک برادریاں ان وسائل کے قریب آباد ہیں، تاہم معدنی دولت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ مقامی ترقی کے بجائے طاقت کے مراکز تک پہنچنے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
کان کنی کے موجودہ نظام سے متعلق رپورٹس میں بچوں سے مشقت، ماحولیاتی نقصان اور مقامی آبادیوں کی ممکنہ بے دخلی جیسے مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
یوں افغانستان کی معدنی دولت عام شہریوں کی خوشحالی کا ذریعہ بننے کے بجائے طالبان کے اندر مالی اور سیاسی طاقت کے حصول کی کشمکش کا حصہ بنتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں وسائل سے مالا مال صوبے اخراجات اور نقصانات برداشت کر رہے ہیں جبکہ فیصلوں اور آمدنی پر مرکزی طاقت کے مراکز کا اثر بڑھ رہا ہے۔