مستونگ میں روڈ کی کشادگی اور سکیورٹی اقدامات کو منفی رنگ دینے کے لیے ایف اے ایچ کے سہولت کاروں کا پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا ہے۔

September 3, 2026

فتنة الہندوستان کے سہولت کاروں کی جانب سے سرفراز بگٹی کے بیان کی تحریف اور سکیورٹی فورسز کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا۔

September 3, 2026

کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ بی وائی سی کے رہنما سیاسی قیدی نہیں بلکہ سکیورٹی اہلکار کے قتل اور تشدد کی سہولت کاری میں سزا یافتہ مجرم ہیں۔

September 3, 2026

ایرانی فوج نے امریکہ کو جواب دیتے ہوئے کویت اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

September 3, 2026

افغانستان کی اسلامی تحریکِ آزادی نے ہرات کے آریانا محلے میں طالبان کے انٹیلی جنس رکن قاری عبداللہ کو ٹارگٹڈ حملے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کر دیا۔

September 3, 2026

کوئٹہ کے علاقے مسلم آباد میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے معروف تاجر حاجی صلاح الدین نورزئی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

September 3, 2026

طالبان مخالف مزاحمت میں شدت، اے یو ایف کی 14 صوبوں میں 43 کارروائیاں

اے یو ایف کا دعویٰ ہے کہ ایک ماہ میں 14 صوبوں میں طالبان کے خلاف 43 کارروائیاں کی گئیں، جن میں 74 اہلکار ہلاک اور 35 زخمی ہوئے۔

اے یو ایف کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں افغانستان کے 14 صوبوں میں طالبان کے خلاف 43 کارروائیاں کی گئیں، جن میں 74 اہلکار ہلاک اور 35 زخمی ہوئے

September 3, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کی سرگرمیوں میں اضافے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اے یو ایف کے ترجمان حکمت اللہ کاکڑ نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تنظیم نے افغانستان کے 14 صوبوں میں طالبان کے خلاف 43 کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں میں 74 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور 35 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اے یو ایف کے مطابق اس کی کارروائیوں کا دائرہ مختلف علاقوں تک پھیل چکا ہے، جس میں دارالحکومت کابل بھی شامل ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ 2 ستمبر کو کابل میں طالبان کے امر بالمعروف سے وابستہ قاری آغا گل کو نشانہ بنایا گیا۔ اے یو ایف کا الزام ہے کہ قاری آغا گل شہریوں کو ہراساں کرنے اور نوجوانوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک میں ملوث تھا۔

تنظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ یکم ستمبر کو سرپل میں طالبان حکومت کی چوتھی بٹالین کے ایک رکن کو کارروائی میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا۔ اے یو ایف کا کہنا ہے کہ طالبان اہلکاروں اور سکیورٹی ڈھانچے کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مختلف صوبوں میں جاری ہے۔

اے یو ایف کے مطابق کارروائیوں کا مختلف جغرافیائی علاقوں تک پھیلاؤ طالبان حکومت کے لیے سکیورٹی چیلنج کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ طالبان حکومت کی سخت پالیسیوں، سیاسی مخالفین کو محدود کرنے اور مقامی سطح پر سخت انتظامی اقدامات کے باعث بعض حلقوں میں بے چینی موجود ہے، جس نے مسلح مزاحمت کے لیے ماحول پیدا کیا

افغانستان میں طالبان حکومت کے لیے مسلح مزاحمت ایک مسلسل سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔ اے یو ایف کی جانب سے مختلف صوبوں میں کارروائیوں اور طالبان اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے دعوے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ طالبان کو ملک میں مکمل سکیورٹی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

اگر مختلف علاقوں میں اس نوعیت کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو یہ طالبان حکومت کی سکیورٹی حکمتِ عملی اور ملک میں اس کے کنٹرول کے دعووں کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہوسکتی ہیں

متعلقہ مضامین

مستونگ میں روڈ کی کشادگی اور سکیورٹی اقدامات کو منفی رنگ دینے کے لیے ایف اے ایچ کے سہولت کاروں کا پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا ہے۔

September 3, 2026

فتنة الہندوستان کے سہولت کاروں کی جانب سے سرفراز بگٹی کے بیان کی تحریف اور سکیورٹی فورسز کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا۔

September 3, 2026

کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ بی وائی سی کے رہنما سیاسی قیدی نہیں بلکہ سکیورٹی اہلکار کے قتل اور تشدد کی سہولت کاری میں سزا یافتہ مجرم ہیں۔

September 3, 2026

ایرانی فوج نے امریکہ کو جواب دیتے ہوئے کویت اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

September 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *