افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کی سرگرمیوں میں اضافے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اے یو ایف کے ترجمان حکمت اللہ کاکڑ نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تنظیم نے افغانستان کے 14 صوبوں میں طالبان کے خلاف 43 کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں میں 74 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور 35 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اے یو ایف کے مطابق اس کی کارروائیوں کا دائرہ مختلف علاقوں تک پھیل چکا ہے، جس میں دارالحکومت کابل بھی شامل ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ 2 ستمبر کو کابل میں طالبان کے امر بالمعروف سے وابستہ قاری آغا گل کو نشانہ بنایا گیا۔ اے یو ایف کا الزام ہے کہ قاری آغا گل شہریوں کو ہراساں کرنے اور نوجوانوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک میں ملوث تھا۔
تنظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ یکم ستمبر کو سرپل میں طالبان حکومت کی چوتھی بٹالین کے ایک رکن کو کارروائی میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا۔ اے یو ایف کا کہنا ہے کہ طالبان اہلکاروں اور سکیورٹی ڈھانچے کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مختلف صوبوں میں جاری ہے۔
اے یو ایف کے مطابق کارروائیوں کا مختلف جغرافیائی علاقوں تک پھیلاؤ طالبان حکومت کے لیے سکیورٹی چیلنج کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ طالبان حکومت کی سخت پالیسیوں، سیاسی مخالفین کو محدود کرنے اور مقامی سطح پر سخت انتظامی اقدامات کے باعث بعض حلقوں میں بے چینی موجود ہے، جس نے مسلح مزاحمت کے لیے ماحول پیدا کیا
افغانستان میں طالبان حکومت کے لیے مسلح مزاحمت ایک مسلسل سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔ اے یو ایف کی جانب سے مختلف صوبوں میں کارروائیوں اور طالبان اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے دعوے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ طالبان کو ملک میں مکمل سکیورٹی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
اگر مختلف علاقوں میں اس نوعیت کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو یہ طالبان حکومت کی سکیورٹی حکمتِ عملی اور ملک میں اس کے کنٹرول کے دعووں کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہوسکتی ہیں