خیبر پختونخوا میں مسلسل دہائی سے زائد عرصے سے اقتدار کے مہرے سنبھالنے والی پاکستان تحریک انصاف کا اصلی چہرہ ایک بار پھر قوم کے سامنے ننگا ہو چکا ہے۔ جس جماعت نے کرپشن کے خاتمے، سادگی، شفافیت اور ریاستِ مدینہ کے نعروں کو بیچ کر عوامی ہمدردیاں حاصل کی تھیں، آج اسی کی چھت تلے اربوں روپے کے مالی اسکینڈلز اور بے حسی کے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جنہوں نے گڈ گورننس کے تمام تر دعوؤں کا جنازہ نکال دیا ہے۔ صوبے میں ایک طرف ترقیاتی فنڈز کی بندر بانٹ اور کھلم کھلا بھتہ خوری کا بازار گرم ہے تو دوسری طرف صوبائی قیادت عوامی خزانے پر شاہانہ عیاشیوں میں مصروف نظر آتی ہے۔
غیر ملکی فنڈنگ سے جاری کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے منصوبوں میں جس بے دردی سے قواعد و ضوابط کو پامال کیا گیا، اس کے نتیجے میں منصوبوں کا مجموعی مالی حجم 180 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ اصل تخمینوں میں من مانے طریقوں سے اربوں روپے کا غیر معمولی اضافہ کرنا، نااہل اور من پسند کمپنیوں کو ٹھیکے نچھاور کرنا اور مالی قوانین کو ہوا میں اڑانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ محض انتظامی نااہلی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند اور منظم لوٹ مار ہے۔
عالمی امداد اور قرضوں سے بننے والے بنیادی انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں اس سطح کا غبن سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کی جانب سے نوٹس لیے جانے پر بھی مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔
بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی یہ داستان صرف ترقیاتی منصوبوں تک ہی محدود نہیں رہی، بلکہ صوبے کے دیگر محکمے بھی لوٹ مار کا گڑھ بن چکے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کے اہلکاروں کی جانب سے این او سی کے اجرا اور دیگر معاملات پر صنعتی مالکان سے ماہانہ لاکھوں روپے کی مبینہ وصولیاں صوبائی انتظامیہ کے منہ پر طماچہ ہیں۔
صنعتی مالکان کا یہ انکشاف کہ یہ بھتہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا جیسے اعلیٰ ترین عہدے دار کے نام پر وصول کیا جاتا رہا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے میں بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کی ملی بھگت سے کرپشن کی جڑیں کس قدر گہری ہو چکی ہیں۔ ان غیر قانونی ادائیگیاں پر مجبور کرنے کے عمل نے نہ صرف صوبے کی صنعتی ترقی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایک طرف صوبہ معاشی تنگی کا رواداری سے رو رہا ہے اور عوامی سہولیات کا فقدان ہے، تو دوسری طرف سادگی کی دعویدار پی ٹی آئی قیادت کے شاہانہ رویے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ حال ہی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دورہِ سندھ اس بدمعاملگی کی بدترین مثال بن کر سامنے آیا ہے۔
وزیراعلیٰ، وزراء، اراکینِ قومی اسمبلی، سکیورٹی گارڈز اور دیگر سرکاری ملازمین پر مشتمل 20 سے زائد رکنی وفد کے لیے پورا کا پورا خصوصاً چارٹرڈ جہاز کرائے پر حاصل کیا گیا۔ یہ سنسنی خیز سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس طیارے کی خریداری یا کرائے پر حاصل کرنے کے لیے کروڑوں روپے کس کی جیب سے گئے اور کس کی اجازت سے عوامی خزانے کو اس بے دردی سے لٹایا گیا؟
جب عوام کو پینے کا صاف پانی، صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں اور صوبہ قرضوں کی دلدل میں ڈوب رہا ہو، تو ایسے میں سیاسی یا پارٹی مفادات کے لیے پورائے کا پورا جہاز کرائے پر لے کر ہوائی سفر کرنا پی ٹی آئی کی منافقت اور دوغلی پالیسی کو طشت از بام کرتا ہے۔ سادگی کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کے یہ پرتعیش شاہانہ انداز ثابت کرتے ہیں کہ ان کے نعرے صرف اپوزیشن کو بلیک میل کرنے اور عوام کو دھوکہ دینے کے لیے تھے، جبکہ اقتدار کی مسند پر بیٹھتے ہی ان کے افعال کسی بھی دیگر روایتی اور مفاد پرست حکمران سے مختلف نہیں رہے۔
خیبر پختونخوا کا حالیہ منظرنامہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کا نعرہِ احتساب اور سادگی کا بیانیہ مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔ نیب، اینٹی کرپشن اور اعلیٰ عدالتی اداروں کو چاہیے کہ وہ 180 ارب روپے کے اس دیوہیکل اسکینڈل، ای پی اے کی بھتہ خوری اور چارٹرڈ جہاز کے شاہانہ اخراجات کا فوری اور شفاف نوٹس لیں۔ قومی اور صوبائی وسائٹ کو ذاتی جاگیر سمجھ کر لٹانے والے تمام ذمے داران، خواہ وہ اعلیٰ بیوروکریٹس ہوں یا سیاسی مسند پر بیٹھے حکمران، ان سب کا بلاامتیاز سخت سے سخت احتساب کیا جانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
دیکھیے: سندھ پولیس کی گاڑیوں پر کالعدم تنظیم کا پرچم: سندھ حکومت شدید تنقید کی زد میں