سندھ حکومت کی مشکوک سرگرمیوں پر ایک بار پھر وہ سوالات ثبت ہو چکے ہیں جن کا جواب دیے بغیر کوئی بھی ذمہ دار حکومت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ سوشل میڈیا سے لے کر عوامی حلقوں تک ہر طرف یہ المناک مناظر دیکھے جا رہے ہیں کہ جن سرکاری گاڑیوں کا کام قانون کی حاکمیت اور شہریوں کی حفاظت تھا، وہی سندھ پولیس کی گاڑیاں کالعدم تنظیم سندھو دیش کے شرپسندوں کے زیرِ استعمال ہیں اور ان پر ریاست مخالف پرچم لہرائے جا رہے ہیں۔ اس پر مزیغ یہ کہ آزادی اسٹالز پر مسلح حملوں اور گنڈا گردی میں بھی رپورٹس کے مطابق انہی کالعدم عناصر کی باقاعدہ شمولیت سامنے آئی ہے۔ یہ محض امن و امان کی بگاڑ کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ سیدھا سادا ریاستی حاکمیت پر حملہ اور حکمران ٹولے کی مجرمانہ سہولت کاری کا کھلا ثبوت ہے۔
سندھ کی صوبائی حکومت پچھلی ڈیڑھ دہائی سے بھی زائد عرصے سے صوبہ سندھ پر بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کر رہی ہے، لیکن اس طویل اقتدار نے سندھ کے عوامی مقدر کو کیا دیا؟ ہسپتال زبوں حالی کا شکار، تعلیمی ادارے مفلوج، انفراسٹرکچر برباد اور عام شہری بنیادی سہولیات اور روزگار سے محروم ہیں۔ وہ پارٹی جو سندھ میں عوامی فلاح کے بجائے انتظامی بربادی اور مظلومیت کا بیانیہ بیچنے کی عادت میں مبتلا ہے، وہ اب ملک بھر میں سیاسی و سماجی انتشار کو ہوا دینے والی اہم قوت بن کر ابھر رہی ہے۔
جب اپنی انتظامی نالائقی اور معاشی تباہی کو چھپانا ہو تو ملک دشمن یا لسانی عناصر سے چشم پوشی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے، اور جب عوام، تجزیہ کار یا اعلیٰ حکام صوبے کے انتظامی زوال کا حل نکالنے، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی یا نئے صوبوں کے قیام کی آئینی بات کریں تو اچانک یہی حکمرانسندھ دھرتی کے رکھوالے بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سندھ کی رکھوالی کا مطلب یہ ہے کہ کالعدم اور ملک دشمن تنظیموں کو پولیس کی سرکاری گاڑیاں تحفے میں دی جائیں؟ کیا رکھوالی کا مطلب یہ ہے کہ آزادی اسٹالز پر مسلح حملے کرنے والے دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی جائے؟ پیپلز پارٹی کے اس دہرے اور خطرناک معیار نے ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی تحفظ اور اقتدار کی بقا کے لیے یہ حکومت کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، خواہ اس کی قیمت ریاستی اداروں کی تذلیل اور ملک کی سلامتی کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
وفاقی حکومت، اعلیٰ عدلیہ اور عسکری اداروں کو اس سنگین بے حسی اور مجرمانہ چشم پوشی کا فوری نوٹس لینا ہوگا۔ سندھ پولیس کے اندر موجود ان عناصر اور سیاسی سرپرستوں کا بلاامتیاز احتساب ضروری ہے جو ریاست مخالف شرپسندوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ اگر آج اس کھلی ریاستی بے توقیری پر سخت اور فوری ایکشن نہ لیا گیا تو یہ سیاسی انتشار اور کالعدم عناصر کی سرپرستی پورے ملک کے لیے ایک نا قابلِ تلافی ناسور بن جائے گی۔