"> سندھ پولیس کی گاڑی پر کالعدم تنظیم کا پرچم، پیپلز پارٹی پر سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سندھ پولیس کی گاڑیوں پر کالعدم تنظیم کا پرچم: سندھ حکومت شدید تنقید کی زد میں

سندھ پولیس کی گاڑی کا کالعدم تنظیم کے زیرِ استعمال ہونا اور ریاست مخالف پرچم لہرانا سندھ حکومت کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
سندھ پولیس کی گاڑیوں پر کالعدم تنظیم کا پرچم: سندھ حکومت شدید تنقید کی زد میں

سندھ پولیس کی گاڑی کے کالعدم تنظیم کے استعمال اور ریاست مخالف پرچم لہرانے کے واقعے پر سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے کردار پر سوالات۔

August 28, 2026

سندھ حکومت کی مشکوک سرگرمیوں پر ایک بار پھر وہ سوالات ثبت ہو چکے ہیں جن کا جواب دیے بغیر کوئی بھی ذمہ دار حکومت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ سوشل میڈیا سے لے کر عوامی حلقوں تک ہر طرف یہ المناک مناظر دیکھے جا رہے ہیں کہ جن سرکاری گاڑیوں کا کام قانون کی حاکمیت اور شہریوں کی حفاظت تھا، وہی سندھ پولیس کی گاڑیاں کالعدم تنظیم سندھو دیش کے شرپسندوں کے زیرِ استعمال ہیں اور ان پر ریاست مخالف پرچم لہرائے جا رہے ہیں۔ اس پر مزیغ یہ کہ آزادی اسٹالز پر مسلح حملوں اور گنڈا گردی میں بھی رپورٹس کے مطابق انہی کالعدم عناصر کی باقاعدہ شمولیت سامنے آئی ہے۔ یہ محض امن و امان کی بگاڑ کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ سیدھا سادا ریاستی حاکمیت پر حملہ اور حکمران ٹولے کی مجرمانہ سہولت کاری کا کھلا ثبوت ہے۔

سندھ کی صوبائی حکومت پچھلی ڈیڑھ دہائی سے بھی زائد عرصے سے صوبہ سندھ پر بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کر رہی ہے، لیکن اس طویل اقتدار نے سندھ کے عوامی مقدر کو کیا دیا؟ ہسپتال زبوں حالی کا شکار، تعلیمی ادارے مفلوج، انفراسٹرکچر برباد اور عام شہری بنیادی سہولیات اور روزگار سے محروم ہیں۔ وہ پارٹی جو سندھ میں عوامی فلاح کے بجائے انتظامی بربادی اور مظلومیت کا بیانیہ بیچنے کی عادت میں مبتلا ہے، وہ اب ملک بھر میں سیاسی و سماجی انتشار کو ہوا دینے والی اہم قوت بن کر ابھر رہی ہے۔

جب اپنی انتظامی نالائقی اور معاشی تباہی کو چھپانا ہو تو ملک دشمن یا لسانی عناصر سے چشم پوشی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے، اور جب عوام، تجزیہ کار یا اعلیٰ حکام صوبے کے انتظامی زوال کا حل نکالنے، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی یا نئے صوبوں کے قیام کی آئینی بات کریں تو اچانک یہی حکمرانسندھ دھرتی کے رکھوالے بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سندھ کی رکھوالی کا مطلب یہ ہے کہ کالعدم اور ملک دشمن تنظیموں کو پولیس کی سرکاری گاڑیاں تحفے میں دی جائیں؟ کیا رکھوالی کا مطلب یہ ہے کہ آزادی اسٹالز پر مسلح حملے کرنے والے دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی جائے؟ پیپلز پارٹی کے اس دہرے اور خطرناک معیار نے ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی تحفظ اور اقتدار کی بقا کے لیے یہ حکومت کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، خواہ اس کی قیمت ریاستی اداروں کی تذلیل اور ملک کی سلامتی کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

وفاقی حکومت، اعلیٰ عدلیہ اور عسکری اداروں کو اس سنگین بے حسی اور مجرمانہ چشم پوشی کا فوری نوٹس لینا ہوگا۔ سندھ پولیس کے اندر موجود ان عناصر اور سیاسی سرپرستوں کا بلاامتیاز احتساب ضروری ہے جو ریاست مخالف شرپسندوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ اگر آج اس کھلی ریاستی بے توقیری پر سخت اور فوری ایکشن نہ لیا گیا تو یہ سیاسی انتشار اور کالعدم عناصر کی سرپرستی پورے ملک کے لیے ایک نا قابلِ تلافی ناسور بن جائے گی۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *