"> طالبان قیادت میں تبدیلی؟ ہیبت اللہ کی جگہ ملا برادر کا نام زیرِ غور

طالبان قیادت میں بڑی تبدیلی؟ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جگہ نیا نام سامنے آگیا

افغان انٹیلی جنس اندازوں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے دعوؤں میں طالبان قیادت میں تبدیلی کی بات سامنے آئی ہے۔ ملا عبدالغنی برادر کو ہیبت اللہ اخوندزادہ کا ممکنہ متبادل قرار دیا گیا ہے۔
طالبان قیادت میں تبدیلی؟ ہیبت اللہ کی جگہ ملا برادر کا نام زیرِ غور

افغان انٹیلی جنس اندازوں اور سوشل میڈیا دعوؤں میں طالبان قیادت میں تبدیلی کا ذکر، ملا عبدالغنی برادر کو ہیبت اللہ کا ممکنہ متبادل قرار دیا گیا۔

September 7, 2026

افغان انٹیلی جنس اور بعض افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے دعوؤں میں طالبان کی قیادت میں تبدیلی کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دعوؤں کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو قیادت سے ہٹانے اور ان کی جگہ ملا عبدالغنی برادر کو لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ملا عبدالغنی برادر طالبان کے سابق رہنما ہیں۔ وہ ملا محمد عمر کے دور میں اہم حکومتی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔

ملا برادر ممکنہ متبادل

افغان ذرائع سے منسوب دعوؤں میں ملا عبدالغنی برادر کو طالبان کے نسبتاً معتدل حلقوں کی شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں ایک جامع حکومت کے قیام کے حامی ہیں۔

ملا برادر کے پاکستان سمیت پڑوسی ممالک اور بعض مغربی ریاستوں کے ساتھ بھی بہتر روابط رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ممکنہ قیادت کو طالبان کے موجودہ سفارتی طرزِ عمل سے مختلف قرار دیا جا رہا ہے۔

تنہائی ختم ہونے کی امید؟

ماہرین کے مطابق اگر طالبان کی قیادت میں ایسی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کے افغانستان کی خارجہ پالیسی پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ملا برادر کی نسبتاً معتدل سیاسی شناخت اور مختلف ممالک کے ساتھ روابط افغانستان کو موجودہ سفارتی تنہائی سے نکلنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور عالمی سطح پر طالبان حکومت سے رابطوں کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جگہ ملا عبدالغنی برادر کو لانے کی اطلاعات نے طالبان کی اندرونی سیاست اور مستقبل کی افغان خارجہ پالیسی سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اگر قیادت میں یہ تبدیلی واقع ہوتی ہے تو افغانستان کے علاقائی اور عالمی تعلقات پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے تبادلے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے، نیتن یاہو نے حملہ آوروں کا محلہ تباہ کرنے کی دھمکی دے دی۔

October 23, 2026

وزارتِ عظمیٰ نہ ملنے پر راجہ فاروق حیدر نے نظام اور اسلام آباد کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے، جو اصول پرستی کے بجائے سیاسی ناکامی کا عکس ہیں۔

October 23, 2026

راولپنڈی میں گولڑہ موڑ کے قریب سی این جی اسٹیشن پر دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے۔

October 23, 2026

گوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک بلوچ خاتون سمیت 10 حملہ آور ہلاک اور ایک شہری شہید ہوا۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *