افغان انٹیلی جنس اور بعض افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے دعوؤں میں طالبان کی قیادت میں تبدیلی کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دعوؤں کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو قیادت سے ہٹانے اور ان کی جگہ ملا عبدالغنی برادر کو لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ملا عبدالغنی برادر طالبان کے سابق رہنما ہیں۔ وہ ملا محمد عمر کے دور میں اہم حکومتی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔
ملا برادر ممکنہ متبادل
افغان ذرائع سے منسوب دعوؤں میں ملا عبدالغنی برادر کو طالبان کے نسبتاً معتدل حلقوں کی شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں ایک جامع حکومت کے قیام کے حامی ہیں۔
ملا برادر کے پاکستان سمیت پڑوسی ممالک اور بعض مغربی ریاستوں کے ساتھ بھی بہتر روابط رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ممکنہ قیادت کو طالبان کے موجودہ سفارتی طرزِ عمل سے مختلف قرار دیا جا رہا ہے۔
تنہائی ختم ہونے کی امید؟
ماہرین کے مطابق اگر طالبان کی قیادت میں ایسی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کے افغانستان کی خارجہ پالیسی پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ملا برادر کی نسبتاً معتدل سیاسی شناخت اور مختلف ممالک کے ساتھ روابط افغانستان کو موجودہ سفارتی تنہائی سے نکلنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور عالمی سطح پر طالبان حکومت سے رابطوں کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جگہ ملا عبدالغنی برادر کو لانے کی اطلاعات نے طالبان کی اندرونی سیاست اور مستقبل کی افغان خارجہ پالیسی سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اگر قیادت میں یہ تبدیلی واقع ہوتی ہے تو افغانستان کے علاقائی اور عالمی تعلقات پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔