افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے ہزارہ اور شیعہ برادری کے خلاف منظم امتیازی سلوک اور دباؤ کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق مذہبی، سیاسی اور سماجی سطح پر اس برادری کو مختلف پابندیوں اور مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے فقہ جعفریہ کی سرکاری حیثیت ختم کر دی ہے۔ اس کے علاوہ شیعہ برادری کی سیاسی شرکت کو محدود کرنے اور مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
عاشورا کی تقریبات پر پابندیاں اور شیعہ علما کو مبینہ طور پر ہراساں کرنا بھی اسی سلسلے کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، غزنی، کابل اور ہرات میں ہزارہ خاندانوں کو جائیدادوں سے متعلق مسائل اور مبینہ جبری اقدامات کا سامنا ہے۔ ان اقدامات کے باعث ہزاروں خاندانوں میں عدم تحفظ اور بے یقینی پیدا ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں چھاپوں اور گرفتاریوں کے علاوہ تعلیمی اور کمیونٹی اداروں کو بھی بند کیا گیا ہے۔
مذہبی و سماجی اداروں پر دباؤ
رپورٹ کے مطابق شیعہ برادری کے مذہبی اور سماجی اداروں پر پابندیوں نے بھی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ تعلیمی سرگرمیوں اور کمیونٹی اداروں سے متعلق اقدامات کو بھی طالبان حکومت کی سخت پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں ہزارہ اور شیعہ برادری کے مذہبی آزادی، سیاسی شرکت اور سماجی حقوق سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں طالبان حکومت کے ان اقدامات کو اقلیتوں کو سیاسی اور سماجی طور پر محدود کرنے کی پالیسی قرار دیا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق مسلسل پابندیاں اور جبری اقدامات افغانستان میں اختلافِ رائے کے لیے محدود گنجائش کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یوں ہزارہ اور شیعہ برادری سے متعلق یہ صورتحال طالبان حکومت کے طرز حکمرانی اور مذہبی و سیاسی آزادیوں کے حوالے سے نئے سوالات اٹھا رہی ہے۔