"> سہیل آفریدی کا طرزِ حکمرانی: خیبر پختونخوا کے مسائل اور 27 ستمبر کا احتجاج

خیبر پختونخوا کے سلگتے مسائل اور سہیل آفریدی کی احتجاجی سیاست

خیبر پختونخوا میں بے روزگاری اور بدامنی عروج پر ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبائی مسائل چھوڑ کر دیگر صوبوں میں سیاسی احتجاج میں مصروف ہیں۔
سہیل آفریدی کا احتجاج

خیبر پختونخوا میں بے روزگاری اور بدامنی عروج پر ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبائی مسائل چھوڑ کر دیگر صوبوں میں سیاسی احتجاج میں مصروف ہیں۔

September 7, 2026

پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو لاہور، فیصل آباد اور اسلام آباد میں مظاہروں اور احتجاجی تحرک کا لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس تمام سیاسی محاذ آرائی کے کپتان بنے ہوئے ہیں اور تمام تر سرکاری توانائیاں اور وقت دوسرے صوبوں کو بند کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔موصوف ان دنوں صوبائی مسائل حل کرنے کے بجائے سندھ اور دوسرے صوبوں میں جا کر سیاسی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جبکہ تمام تر سرکاری توانائیاں اور وقت دوسرے صوبوں کے شہروں کو بند کرنے کی منصوبابندی پر صرف کیا جا رہا ہے۔

تاہم، ان تمام تر سرگرمیوں نے ایک بڑا بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا سہیل آفریدی کی قیادت اور ترجیحات کا محور خیبر پختونخوا کے مظلوم عوام ہیں یا صرف اپنے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ؟

خیبر پختونخوا اس وقت جن دردناک حالات سے گزر رہا ہے، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ صوبہ شدید انتظامی ابتری، معاشی تباہی اور بدامنی کا شکار ہے۔ نوجوان ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے بے روزگاری کی دھول چھان رہے ہیں اور عام شہری بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ امن و امان کی صورتِ حال روز بروز ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے اور صوبے کا ایک بڑا حصہ سیکیورٹی کے شدید بحران کی لپیٹ میں ہے۔ ان سلگتے ہوئے حالات میں، جب صوبے کو ایک ہمہ وقت موجود، سنجیدہ اور متحرک سربراہ کی ضرورت ہے، سہیل آفریدی کبھی پنجاب پر لشکر کشی کے منصوبے بنا رہے ہیں تو کبھی سندھ کے سیاسی دورے کر رہے ہیں۔

اپنے صوبے کا گھر تباہ ہو رہا ہو اور حکمران دوسرے صوبوں میں جا کر شٹر ڈاؤن اور شاہراہیں بند کرنے کی دھمکیاں دیں، تو یہ سراسر بے حسی اور عوامی اعتماد کا مذاق ہے۔ سہیل آفریدی شاید یہ بھول رہے ہیں کہ وہ کسی احتجاجی تحریک کے صرف سالار نہیں بلکہ ایک پورے صوبے کے ایگزیکٹو ہیڈ یعنی وزیراعلیٰ ہیں۔ ان کی پہلی، دوسری اور آخری ذمہ داری خیبر پختونخوا کے روزگار، امن، تعلیم اور صحت کا تحفظ ہونی چاہیے تھی۔ بجائے اس کے کہ وہ صوبے کی تباہ حال معیشت کو سہارا دینے اور بدامنی کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرتے، ان کی تمام تر دلچسپی اس بات میں ہے کہ لاہور کا مال روڈ کیسے بلاک کیا جائے اور فیصل آباد کا گھنٹہ گھر کیسے بند کرایا جائے۔

صوبائی وسائل اور وقت کا یہ غیر ذمہ دارانہ استعمال خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ شدید زيادتی ہے۔ جب آپ کے اپنے صوبے کا معاشی اور سیکیورٹی ڈھانچہ زبوں حالی کا شکار ہو، تو دوسروں کے شہروں کو معطل کرنے کا جوش و جذبہ غیر منطقی اور مضحکہ خیز نظر آتا ہے۔ پارٹی کے اپنے اندر سے بھی مشاورت کی کمی اور ان کی اس حکمتِ عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سہیل آفریدی کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ عوامی قیادت کا حقیقی امتحان نعرے بازی اور لشکر کشی نہیں، بلکہ بہترین حکمرانی سے عوام کی زندگیوں میں آسانی لانا ہوتا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے رخ کرنے سے پہلے انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور خیبر پختونخوا کے معصوم اور بے روزگار عوام کو جواب دینا ہوگا کہ ان کے حقوق اور سلامتی کا ضامن کون ہے؟

دیکھیے: پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ پر اختلافات، اراکین کے تحفظات سامنے آگئے

متعلقہ مضامین

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے تبادلے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے، نیتن یاہو نے حملہ آوروں کا محلہ تباہ کرنے کی دھمکی دے دی۔

October 23, 2026

وزارتِ عظمیٰ نہ ملنے پر راجہ فاروق حیدر نے نظام اور اسلام آباد کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے، جو اصول پرستی کے بجائے سیاسی ناکامی کا عکس ہیں۔

October 23, 2026

راولپنڈی میں گولڑہ موڑ کے قریب سی این جی اسٹیشن پر دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے۔

October 23, 2026

گوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک بلوچ خاتون سمیت 10 حملہ آور ہلاک اور ایک شہری شہید ہوا۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *