سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کی جانب سے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی پر تنقید کو سیاسی ماہرین نے ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا۔

September 7, 2026

پشاور کے پوسٹ گریجویٹ نرسنگ کالج کے طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد اور لاٹھی چارج نے صوبائی حکومت کے انتظامی دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

September 7, 2026

چناب نگر کے سانحے سے لے کر قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے تک، جانیے کیسے پوری قوم اور تمام مکاتبِ فکر کے علماء ایک عقیدے کے تحفظ کے لیے یکجا ہوئے۔

September 7, 2026

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ اور مستقبل پر گفتگو کی۔ انہوں نے مسلم دنیا میں پاکستان کے کردار اور اس کی تزویراتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

September 7, 2026

سات ستمبر 1965 کو سرگودھا کے آسمان پر ایم ایم عالم کا یادگار فضائی معرکہ ہوا۔ چند لمحوں کی اس کارروائی نے انہیں جنگِ 1965 کی نمایاں شخصیات میں شامل کردیا۔

September 7, 2026

خاران کے علاقے جنگیان کے قریب سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 9 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

September 7, 2026

سات ستمبر 1974: تحفظِ ختمِ نبوتؐ کا تاریخ ساز دن

چناب نگر کے سانحے سے لے کر قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے تک، جانیے کیسے پوری قوم اور تمام مکاتبِ فکر کے علماء ایک عقیدے کے تحفظ کے لیے یکجا ہوئے۔
سات ستمبر 1974: تحفظِ ختمِ نبوتؐ کا تاریخ ساز دن

سات ستمبر وہ تاریخی دن ہے جس کے پیچھے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں، چوک چوراہوں میں برپا ہونے والے جلسے جلوس اور برسوں کی انتھک جدوجہد کارفرما تھی، جو بالآخر قومی اسمبلی میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ علامہ شاہ احمد نورانی، مفتی محمود، علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا غلام اللہ خان سمیت اکابر علماء کی انتھک جدوجہد کی بدولت یہ تاریخی معرکہ سر ہوا۔

September 7, 2026

ہر سال جیسے ہی ستمبر کی سات تاریخ آتی ہے، پاکستان کی فضا ایک الگ ہی کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ محض ایک تاریخی مرحلے ہی نہیں، بلکہ ایک ایسا عظیم دن ہے جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے پوری قوم کی صدا بن کر، ایک ایسا فیصلہ سنایا جو آج پچاس سال گزرنے کے بعد بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا اس دن رکھتا تھا۔ 7 ستمبر 1974 کو قومی اسمبلی اور بعد ازاں سینیٹ نے قادیانی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، اور یوں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے سلگتا ہوا ایک مسئلہ آخرکار جمہوری راستے سے اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔

ہر بڑی تحریک کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے جو خاموشی میں میں ہلچل مچا دیتا ہے۔ 1974 کی تحریکِ ختم نبوت کے لیے یہ کردار چناب نگر کے سانحے نے ادا کیا۔ 22 مئی 1974ءکو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ کا ایک قافلہ محض ایک تفریحی و معلوماتی سفر پر پشاور جا رہا تھا۔ راستے میں چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر رکنا ہوا تو وہاں قادیانیوں نے طلبہ میں اپنا مذہبی لٹریچر تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ نوجوان طلبہ نے یہ لٹریچر لینے سے صاف انکار کر دیا اور جذبۂ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نعرے بلند کیے۔ یہ انکار قادیانیوں کو ناگوار گزرا، اور جب یہی طلبہ 29 مئی کو واپسی کے سفر پر تھے تو ایک منظم سازش کے تحت ٹرین کو خلافِ ضابطہ چناب نگر اسٹیشن پر روک لیا گیا۔ وہاں سیکڑوں مسلح افراد نے، جن میں قادیانیت کے مختلف طبقات شامل تھے، بے دردی سے حملہ کر کے تیس سے زائد نہتے طلبہ کو شدید زخمی کر دیا۔

یہ خبر جیسے ہی پھیلی، پورا پاکستان سراپا احتجاج بن گیا۔ لاہور سمیت ملک بھر کے شہروں میں ہڑتالیں ہوئیں، جلوس نکلے، اور برسوں سے دبا ہوا غصہ ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کرنے لگا۔

تحریکِ ختم نبوت کا مرکز

جہاں لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہر اس تحریک کے مرکزی میدان بنے، وہیں راولپنڈی کا راجہ بازار بھی ایک ایسا نام ہے جسے اس جدوجہد کی تاریخ سے کبھی الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار اس دور میں تحریکِ ختم نبوت کا ایک فعال مرکز بن چکا تھا۔ یہاں کی روحِ رواں شخصیت شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ تھے، جن کی قیادت میں یہ ادارہ محض ایک درس گاہ نہیں بلکہ تحریک کا ایک اعصابی مرکز بن گیا تھا۔ روزانہ کی بنیاد پر یہاں کارکنوں کو منظم کیا جاتا، حکمتِ عملی طے ہوتی اور عوام کو بیدار کرنے کا کام جاری رہتا۔ مولانا غلام اللہ خانؒ کی علمی گہرائی اور تنظیمی صلاحیت نے راولپنڈی کو ایک ایسا مرکز بنا دیا جہاں سے پورے راولپنڈی اور اردگرد کے علاقوں میں تحریک کی روح پھونکی جاتی رہی۔

اس تحریک میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا نام بھی نمایاں ہے۔ اگرچہ ان کی خطابت کا سکہ برسوں پہلے ہی جم چکا تھا، مگر ان کی للکارتی ہوئی تقاریر اور عوام کے دلوں میں اتری ہوئی محبتِ رسولؐ کی وہ چنگاری، جو انہوں نے دہائیوں پہلے روشن کی تھی، 1974ء کی اس تحریک میں بھی زندہ اور کارفرما نظر آئی۔

علمی محاذ پر اہلِ حدیث مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے قادیانیت کے عقائد کا تحقیقی و علمی رد تحریر کرکے اس تحریک کو ایک مضبوط دلائل پر مبنی بنیاد فراہم کی۔ ان کی تصانیف اور تحقیقات نے اس بات کو ثابت کیا کہ یہ محض جذباتی نعرہ بازی نہیں بلکہ ایک ٹھوس علمی موقف تھا جس کی پشت پناہی ہر مکتبِ فکر کے جید علماء نے کی۔ ڈاکٹر خالد محمود جیسے محققین نے بھی اسی سلسلے میں گراں قدر علمی خدمات انجام دیں، جن سے قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی بحث کو مضبوط بنیاد ملی۔

قومی اسمبلی کا معرکہ

تیزہ جون 1974 کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ معاملہ باضابطہ طور پر قومی اسمبلی کے سپرد کر دیا۔ 30 جون کو ایک متفقہ قرارداد پیش ہوئی، جس پر غور کے لیے پوری اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کے بعد کا منظر خود ایک مثال ہے: اڑھائی ماہ کے قلیل عرصے میں 28 اجلاس، تقریباً چھیانوے گھنٹوں پر محیط بحث و مباحثہ، اور قادیانی جماعت کے دونوں گروہوں ربوہ گروپ اور لاہوری گروپ —کو اپنے عقائد پیش کرنے کا مکمل موقع دیا گیا۔

دوسری جانب اہلِ اسلام کی طرف سے اس پوری کارروائی کے روحِ رواں علامہ شاہ احمد نورانیؒ تھے، جنہوں نے نہ صرف اسمبلی میں تاریخی قرارداد پیش کی بلکہ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر پر گیارہ دن تک مسلسل جرح کی، ایک ایسی جرح جس نے آخرکار حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ ان کے ساتھ مفتی محمودؒ نے بھی بھرپور کردار ادا کیا اور بل کی مکمل تائید کرتے ہوئے اس تاریخی اقدام پر حکومت اور اراکینِ اسمبلی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان، خان عبدالولی خان، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہریؒ، مولانا سید محمد علی رضویؒ اور مولانا سید ابوذر بخاریؒ سمیت جید علماء اور سیاسی اکابرین نے بھی اپنی اپنی حیثیت میں اس جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اسی دوران قادیانی لٹریچر کی تحقیق و تدوین کا کٹھن اور صبر آزما کام مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحقؒ جیسے علماء نے انجام دیا، جس نے اسمبلی کی بحث کو ٹھوس علمی بنیادوں پر استوار کر دیا۔

جس شب فیصلہ سنایا گیا

بالآخر 7 ستمبر 1974 کی شام وفاقی وزیرِ قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ خود وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آدھے گھنٹے کی تقریر کی، اور اس کے بعد ووٹنگ کا وہ تاریخی مرحلہ آیا جس کا نتیجہ آج بھی حیران کن معلوم ہوتا ہے: 130 ووٹ ترمیم کے حق میں، اور مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں۔ اسی رات سینیٹ نے بھی اسی اتفاقِ رائے سے اس بل کی توثیق کر دی۔ رات آٹھ بجے جب ریڈیو پاکستان نے یہ خبر نشر کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا ہے، تو گویا برسوں کی جدوجہد ایک ہی رات میں اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔

اس ترمیم کے ذریعے آئین کی دفعہ 260 میں ایک نئی شق شامل کی گئی، جس کے مطابق نبی کریمﷺ کے بعد کسی بھی مدعیِ نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح ماننے والا شخص قانون کی نظر میں مسلمان تصور نہیں کیا جائے گا۔

آج، پچاس سال بعد

عقیدہ ختم نبوت دراصل اسلام کی اُس بنیادی عمارت کا ایک ستون ہے جس پر پوری دینی عمارت کھڑی ہے۔ کلمہ طیبہ پڑھنے والا ہر مسلمان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری اور خاتم النبیین رسول ہیں، اور آپﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ یہ عقیدہ کوئی ضمنی یا اختیاری مسئلہ نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد ہے، اور اسی بنا پر علماء اسے دین کا متفقہ اور اجماعی عقیدہ قرار دیتے ہیں جس پر تمام مکاتبِ فکر دیوبندی، بریلوی اور اہلِ حدیث ہمیشہ سے یکسو رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی تاریخ میں کسی نے اس عقیدے سے انحراف کی جسارت کی، پوری امتِ مسلمہ نے بلا تفریقِ مسلک اس کے خلاف آواز بلند کی۔ 1974 کی تحریک اسی اجتماعی حساسیت کی ایک زندہ مثال ہے، جہاں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء ذاتی و فقہی اختلافات بھلا کر ایک نکتے پر متفق ہو گئے۔ آج بھی پاکستانی معاشرے میں یہ عقیدہ محض ایک قانونی شق نہیں بلکہ قومی وحدت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور اسی لیے ہر سال 7 ستمبر کو منائی جانے والی یہ تقریبات نئی نسل کو اس بنیادی عقیدے سے روشناس کرانے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں، تاکہ ایمان کی یہ روشنی نسل در نسل منتقل ہوتی رہے۔

دیکھیے: قائدِ حریت سید علی گیلانی کی آج پانچویں برسی منائی جا رہی ہے

متعلقہ مضامین

سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کی جانب سے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی پر تنقید کو سیاسی ماہرین نے ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا۔

September 7, 2026

پشاور کے پوسٹ گریجویٹ نرسنگ کالج کے طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد اور لاٹھی چارج نے صوبائی حکومت کے انتظامی دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

September 7, 2026

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ اور مستقبل پر گفتگو کی۔ انہوں نے مسلم دنیا میں پاکستان کے کردار اور اس کی تزویراتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

September 7, 2026

سات ستمبر 1965 کو سرگودھا کے آسمان پر ایم ایم عالم کا یادگار فضائی معرکہ ہوا۔ چند لمحوں کی اس کارروائی نے انہیں جنگِ 1965 کی نمایاں شخصیات میں شامل کردیا۔

September 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *