خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ حیات آباد کے پرامن طلبہ و طالبات پر پولیس کے مبینہ تشدد اور لاٹھی چارج نے صوبائی حکومت کی انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
مظاہرین کے مطابق طلبہ و طالبات ہوسٹل کی عدم فراہمی اور کلینیکل پریکٹس سے متعلق درپیش مسائل پر اپنے جائز مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے تھے۔
سوشل میڈیا اور صحافتی رپورٹس کے مطابق پولیس نے مطالبات سننے کے بجائے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اچانک لاٹھی چارج کر دیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
واقعے کے دوران صورتِ حال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب مبینہ طور پر احتجاج میں شریک طالبات پر پولیس کی گاڑی چڑھا دی گئی، جس سے بھگدڑ اور خوف و ہراس پھیل گیا۔
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ حیات آباد کے باہر احتجاج کرنے والے پرامن نرسنگ طلبہ پر پولیس کی جانب سے مبینہ شدید تشدد کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔
— HTN Urdu (@htnurdu) September 7, 2026
مظاہرین اور عینی شاہدین کے مطابق، اپنے جائز مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کرنے والے نرسنگ طلبہ… pic.twitter.com/qMOJXNY3Tu
موقع پر موجود صحافیوں اور عینی شاہدین کے مطابق پولیس اہلکار ویڈیو بنانے والے طلبہ کو زبردستی روکتے رہے اور کم از کم 11 طلبہ کو حراست میں لے کر گرفتار کر لیا گیا۔
سیاسی و سماجی حلقوں نے اس واقعے پر پی ٹی آئی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبائی قیادت اپنے صوبے کے مسائل چھپانے کے لیے تشدد کا سہارا لے رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق کے پی حکومت ایک طرف دیگر صوبوں میں سیاسی تحرک میں مصروف ہے تو دوسری طرف اپنے ہی دارالحکومت میں صحت و تعلیم کے شعبے سے وابستہ نوجوانوں پر تشدد کروا رہی ہے۔
طلبہ تنظیموں اور نرسنگ اسٹاف نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے گرفتار تمام طلبہ کی فوری رہائی اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔