"> امراللہ صالح کی ساکھ پر سوال، ناکام انٹیلی جنس چیف کا پاکستان پر الزام

کابل نہ بچا سکے، پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کا لیکچر: امراللہ صالح شدید تنقید کی زد میں

سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کی جانب سے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی پر تنقید کو سیاسی ماہرین نے ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا۔
امراللہ صالح کی ساکھ پر سوال، ناکام انٹیلی جنس چیف کا پاکستان پر الزام

امراللہ صالح کے پاکستان پر الزامات پر شدید تنقید، ناقدین نے کابل سقوط اور انٹیلی جنس ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دے دیا۔

September 7, 2026

افغانستان کے سابق نائب صدر اور سابق انٹیلی جنس سربراہ امراللہ صالح نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بیشتر کاروبار ٹی ٹی پی کو بھتہ دیتے ہیں۔ انہوں نے اس دعوے کی بنیاد پر پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امراللہ صالح کی اپنی ناکامیوں پر سوال سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ امراللہ صالح اپنی حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی بھی نہیں کر سکے تھے۔ وہ طالبان کی پیش قدمی اور سقوطِ کابل کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔

ماہرین کے مطابق جو شخص اپنے ملک کے حالات نہ سنبھال سکا، وہ پاکستان جیسے ایٹمی ملک کے سکیورٹی مسائل پر کس طرح قابلِ اعتماد تجزیہ پیش کر سکتا ہے؟

ٹی ٹی پی کی مبینہ حمایت کا الزام امراللہ صالح پر یہ سنگین الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ کابل میں ان کے دورِ اقتدار کے دوران ٹی ٹی پی کو مالی وسائل اور پناہ فراہم کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی پر لیکچر دینے سے پہلے صالح کو اپنے ماضی کا جائزہ لینا چاہیے۔

انٹیلی جنس اور سیاسی محاذ پر ناکامی امراللہ صالح انٹیلی جنس اور سیاسی دونوں محاذوں پر ناکام رہے۔ پنجشیر میں طالبان کے خلاف ان کی مزاحمت بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔

حالات بدلنے کے بعد ان کی جانب سے خود کو صدر قرار دینے کی کوشش کو بھی عالمی سطح پر پذیرائی نہیں ملی۔

کرزئی حکومت میں بھی اختلافات سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی امراللہ صالح کو انٹیلی جنس سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ ماہرین اسے ان کی ناقص کارکردگی اور سیاسی وابستگیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

سقوطِ کابل پر بھی سوالات امراللہ صالح پر سب سے بڑا اعتراض کابل کے سقوط سے متعلق ان کی انٹیلی جنس ناکامیوں پر کیا جاتا ہے۔

ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کا زوال نہ روک سکے، اب پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں۔

سکیورٹی ریکارڈ کے مطابق صالح کے دور میں طالبان کی قوت میں اضافہ ہوا اور ٹی ٹی پی مزید مضبوط ہوئی۔

جس سکیورٹی نظام کی خامیوں پر خود ان کے دور میں سوال اٹھے، اب اسی کی بنیاد پر مشورے دینا مضحکہ خیز ہے۔

سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کی کوشش افغانستان میں اقتدار ختم ہونے کے بعد وہ پاکستان پر تنقید کے ذریعے اپنی سیاسی موجودگی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف الزامات ان کی اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔

متعلقہ مضامین

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے تبادلے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے، نیتن یاہو نے حملہ آوروں کا محلہ تباہ کرنے کی دھمکی دے دی۔

October 23, 2026

وزارتِ عظمیٰ نہ ملنے پر راجہ فاروق حیدر نے نظام اور اسلام آباد کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے، جو اصول پرستی کے بجائے سیاسی ناکامی کا عکس ہیں۔

October 23, 2026

راولپنڈی میں گولڑہ موڑ کے قریب سی این جی اسٹیشن پر دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے۔

October 23, 2026

گوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک بلوچ خاتون سمیت 10 حملہ آور ہلاک اور ایک شہری شہید ہوا۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *