بلوچستان کی ترقی اور عوامی بہبود کے خلاف فتنہ الہندوستان کا عوام دشمن ایجنڈا ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔
شرپسندوں نے خاران کے علاقے گواش میں صحت اور تعلیم کے دو اہم زیرِ تعمیر منصوبوں کو بزدلانہ کارروائی کا نشانہ بنایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مسلح دہشت گردوں نے گواش کے مقام پر زیرِ تعمیر گورنمنٹ انٹر کالج اور مائن اینڈ منرلز لیبر ہسپتال کی عمارتوں میں شدید توڑ پھوڑ کی۔
دہشت گردوں نے توڑ پھوڑ کے بعد دونوں اہم عوامی عمارتوں کو باقاعدہ پلاننگ کے تحت نذرِ آتش کر دیا۔ یہ حملہ کسی عمارت پر نہیں بلکہ خاران کے عام عوام کے مستقبل، تعلیم، صحت اور روزگار پر حملہ ہے۔
گورنمنٹ انٹر کالج اور لیبر ہسپتال کے قیام سے گواش، خاران اور گردونواح کے عوام کو تعلیم اور علاج کی بہترین سہولیات ملنا تھیں۔ گواش ہسپتال کو فعال بنایا جا رہا تھا اور یہ کارروائی عام عوام کو علاج کی بہترین سہولیات سے محروم کرنے کی مذموم کوشش ہے۔
فتنہ الہندوستان کے شرپسند اپنے ان اقدامات سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ بلوچستان کی ترقی اور عام بلوچ عوام کے خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن ہیں۔ عوام کی سہولیات، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور ترقیاتی کاموں کو نشانہ بنانے والے عناصر کبھی خطے کے سچے رہنما نہیں ہو سکتے۔
حکومتی ذرائع اور سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں عوامی فلاح کے منصوبوں اور انفراسٹرکچر کی تحفظ کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔