"> ہرات میں طالبان کا وحشیانہ اقدام، ہاتھ بندھے شہری کو قتل کردیا

ہرات میں طالبان کا وحشیانہ اقدام، ہاتھ بندھے شہری کو فائرنگ کرکے قتل کردیا

ہرات میں پانچ طالبان اہلکاروں نے 30 سالہ عبدالقدیر پہلوان زادہ کو تشدد کے بعد قریب سے گولی مار کر قتل کردیا۔ مقتول کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔
ہرات میں طالبان کا وحشیانہ اقدام، ہاتھ بندھے شہری کو قتل کردیا

ہرات میں طالبان اہلکاروں نے 30 سالہ عبدالقدیر پہلوان زادہ کو تشدد کے بعد ہاتھ بندھے حالت میں قریب سے گولی مار کر قتل کردیا۔

September 7, 2026

افغانستان کے صوبہ ہرات میں طالبان اہلکاروں نے 30 سالہ عبدالقدیر پہلوان زادہ کو تشدد کے بعد فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

عبدالقدیر کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ پانچ مسلح طالبان اہلکاروں نے اسے ایک عوامی گزرگاہ میں تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اسے قریب سے گولی مار کر قتل کردیا گیا۔

یہ واقعہ طالبان حکومت کے طرزِ حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک ایسے شخص کو قتل کیا گیا جس کے ہاتھ پہلے ہی بندھے ہوئے تھے۔ اسے عدالتی کارروائی کا حق بھی نہیں دیا گیا۔

اس طرح طاقت کا استعمال قانون اور انصاف کے بنیادی تقاضوں سے متصادم ہے۔ انصاف کے نظام میں کسی بھی شخص کے خلاف الزام کی تحقیقات ضروری ہوتی ہیں۔ اس کے بعد عدالت جرم ثابت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔

تاہم عبدالقدیر پہلوان زادہ کو اس قانونی عمل سے گزارنے کے بجائے قتل کردیا گیا۔ یہ واقعہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں عدالتی احتساب اور قانون کی حکمرانی سے متعلق سنگین خدشات کو نمایاں کرتا ہے۔

طالبان حکومت کا پرتشدد طرزِ عمل

ہرات کا یہ واقعہ طالبان حکومت کے طرزِ عمل میں طاقت کے استعمال کی ایک واضح مثال بن گیا ہے۔

مسلح اہلکاروں کو کسی شہری کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے واضح قانونی اور عدالتی طریقہ کار ضروری ہے۔ تاہم عبدالقدیر کا قتل اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسلام انسانی جان کے احترام اور انصاف کے قیام پر زور دیتا ہے۔ کسی شخص کو محض الزام کی بنیاد پر عدالتی عمل کے بغیر قتل کرنا اسلامی اصولِ عدل سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اسی طرح کسی بے بس اور ہاتھ بندھے شخص کے ساتھ تشدد بھی انسانی وقار کے منافی ہے۔

طالبان خود اسلامی نظامِ حکومت کے قیام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے اہلکاروں کی جانب سے اس نوعیت کا اقدام مزید سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔

عبدالقدیر پہلوان زادہ کا قتل افغانستان میں شہریوں کے تحفظ اور ریاستی اہلکاروں کے احتساب کا معاملہ بھی سامنے لاتا ہے۔

ریاستی طاقت کا بنیادی مقصد شہریوں کی حفاظت ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس اگر مسلح اہلکار ہی قانون سے بالاتر ہوجائیں تو انصاف کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔

ہرات کا یہ واقعہ اسی لیے طالبان حکومت کے عدالتی نظام اور سکیورٹی اہلکاروں کی جواب دہی پر ایک بڑا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے تبادلے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے، نیتن یاہو نے حملہ آوروں کا محلہ تباہ کرنے کی دھمکی دے دی۔

October 23, 2026

وزارتِ عظمیٰ نہ ملنے پر راجہ فاروق حیدر نے نظام اور اسلام آباد کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے، جو اصول پرستی کے بجائے سیاسی ناکامی کا عکس ہیں۔

October 23, 2026

راولپنڈی میں گولڑہ موڑ کے قریب سی این جی اسٹیشن پر دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے۔

October 23, 2026

گوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک بلوچ خاتون سمیت 10 حملہ آور ہلاک اور ایک شہری شہید ہوا۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *