یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے سعودی عرب کا ایک مسلح ڈرون مار گرایا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق ڈرون کو یمن کے صوبے البیضا میں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے زیرِ استعمال چینی ساختہ ونگ لونگ ٹو مسلح ڈرون کو مناسب ہتھیار کے ذریعے گرایا گیا۔
ان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ تیسرا سعودی ڈرون ہے جسے حوثیوں نے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
تاہم سعودی عرب کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ڈرون مار گرائے جانے کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
باب المندب میں کشیدگی
حوثیوں نے اس سے قبل باب المندب میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔ حوثیوں کا مؤقف تھا کہ سعودی عرب نے یمن کے ان علاقوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے جو ان کے کنٹرول میں ہیں۔
اس اقدام کے بعد بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ یہ دونوں راستے عالمی تجارت اور بحری نقل و حرکت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
باب المندب کی اہمیت
باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی اہم آبنائے ہے۔ عالمی تجارت کا بڑا حصہ اسی بحری راستے سے گزرتا ہے۔
حوثیوں کا ماضی میں باب المندب کے قریب واقع بندرگاہی شہر المخا پر بھی کنٹرول رہا ہے۔ تاہم 2017 میں یمنی حکومتی فورسز اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی کارروائی کے بعد حوثیوں کو شہر سے پیچھے ہٹا دیا گیا۔
یمن میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان تنازع 2014 میں شدت اختیار کر گیا۔ اس دوران حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا۔
بعد ازاں 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کی۔ اس کے بعد سے یمن طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔