پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے متوقع احتجاج کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا، سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔

September 8, 2026

آٹھ ستمبر کو یومِ بحریہ منایا جا رہا ہے۔ 1965 کا آپریشن دوارکا، معرکۂ حق اور آپریشن محافظُ البحر پاک بحریہ کی جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی نمایاں مثالیں ہیں۔

September 8, 2026

روسی تجزیہ کار آندرے سیریںکو کے مطابق طالبان داعش خراسان کے خطرے کو استعمال کرکے چین اور دیگر علاقائی ممالک سے عسکری حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

September 8, 2026

آٹھ ستمبر 1965 کو جنگِ ستمبر شدت اختیار کر چکی تھی۔ لاہور، سیالکوٹ، کھیم کرن اور اصَل اُتر کے محاذوں پر شدید لڑائی ہوئی، جبکہ چاوِنڈہ میں بڑی بکتر بند جنگ جاری رہی۔

September 8, 2026

پاکستان اور سعودی عرب نے قومی سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ایم او یو پر دستخط کر دیے۔ معاہدہ لیپ 2026 ٹیکنالوجی کانفرنس کے دوران طے پایا۔

September 8, 2026

عالمی یومِ خواندگی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواندگی صرف پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت نہیں بلکہ معلومات سمجھنے، فیصلے کرنے اور اپنے حقوق تک رسائی حاصل کرنے کی بنیادی ضرورت ہے۔

September 8, 2026

طالبان کی پابندیاں، افغان خواتین کا مستقبل داؤ پر

افغان خواتین کو تعلیم اور روزگار سے محروم رکھنے کی پالیسی صرف خواتین کے بنیادی حقوق کو متاثر نہیں کر رہی بلکہ افغانستان کے تعلیمی، طبی، معاشی اور سماجی مستقبل کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔
افغانستان کا مستقبل اور خواتین کی تعلیم

افغان خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیاں افغانستان کے مستقبل، معیشت اور صحت و تعلیم کے نظام کو متاثر کر رہی ہیں۔

September 8, 2026

کابل میں افغان خواتین ایک بار پھر سڑکوں پر ہیں۔ ان کا مطالبہ اقتدار میں حصہ داری یا کسی سیاسی عہدے کا نہیں، بلکہ تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی کے ان بنیادی مواقع کی بحالی کا ہے جن سے انہیں مسلسل محروم کیا جا رہا ہے۔ طالبان کی جانب سے عائد پابندیوں کے خلاف خواتین کا یہ احتجاج دراصل صرف خواتین کے حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ افغانستان کے مستقبل سے جڑا ایک بنیادی سوال ہے: کیا کسی ملک کی نصف آبادی کو تعلیم اور معاشی سرگرمیوں سے دور رکھ کر ایک مستحکم اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے؟

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے تعلیم، ملازمت اور سماجی سرگرمیوں کے مواقع مسلسل محدود ہوئے ہیں۔ لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد تعلیم جاری رکھنے سے روک دیا گیا، جبکہ دسمبر 2022 میں خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم بھی معطل کردی گئی۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال (یونیسف) کے مطابق اگست 2026 تک 26 لاکھ سے زائد افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں۔ افغانستان اس وقت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں اور خواتین کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر اس نوعیت کی پابندیاں برقرار ہیں۔

تعلیم کا دروازہ بند کرنا صرف طالبات کو کتابوں اور کلاس رومز سے دور کرنے کا نام نہیں۔ اس کے اثرات آنے والے برسوں میں پورے معاشرے کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔ آج جو لڑکی اسکول سے باہر ہے، وہ کل ڈاکٹر، استاد، نرس، انجینئر یا کسی دوسرے شعبے کی ماہر بننے کے موقع سے محروم ہو سکتی ہے۔ یونیسف کے مطابق اگر موجودہ پابندیاں برقرار رہیں تو 2030 تک افغانستان تقریباً 20 ہزار خواتین اساتذہ اور 5,400 خواتین طبی کارکنوں سے محروم ہو سکتا ہے۔

یہ اعداد و شمار افغانستان کے تعلیمی اور صحت کے نظام کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خواتین اساتذہ کی کمی کا براہ راست اثر لڑکیوں کی تعلیم پر پڑ سکتا ہے، جبکہ خواتین ڈاکٹرز، نرسز اور طبی کارکنوں کی کمی خواتین مریضوں کے لیے صحت کی سہولیات تک رسائی مزید مشکل بنا سکتی ہے۔ ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کے لیے خواتین طبی عملے سے علاج کرانا کئی خاندانوں کی ترجیح ہوتی ہے، اس شعبے میں خواتین کی مسلسل کمی ایک بڑا انسانی مسئلہ بن سکتی ہے۔

مسئلہ صرف تعلیم تک محدود نہیں۔ خواتین کو روزگار سے دور رکھنے کا اثر افغانستان کی پہلے سے کمزور معیشت پر بھی پڑ رہا ہے۔ یونیسف کی 2026 کی تحقیق کے مطابق خواتین کی تعلیم اور لیبر فورس میں شرکت پر عائد پابندیاں افغانستان کو ہر سال کم از کم 84 ملین ڈالر کے معاشی نقصان سے دوچار کر رہی ہیں۔ ایسے ملک میں جہاں غربت، بے روزگاری اور انسانی ضروریات پہلے ہی بڑے چیلنج ہیں، آبادی کے ایک بڑے حصے کی معاشی صلاحیت کو استعمال نہ کرنا بحالی کے عمل کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

ایک تعلیم یافتہ اور برسرِ روزگار عورت صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے بھی معاشی اور سماجی سرمایہ ہوتی ہے۔ اس کی آمدن بچوں کی تعلیم، خاندان کی صحت اور گھریلو ضروریات پوری کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ جب خواتین کو کام کرنے سے روکا جاتا ہے تو اس کا اثر صرف ان کی پیشہ ورانہ زندگی پر نہیں پڑتا بلکہ خاندانوں کی معاشی خودمختاری بھی متاثر ہوتی ہے۔

افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم سے محرومی کا ایک اور پہلو آنے والی نسلوں سے جڑا ہے۔ یونیسف کے مطابق 2024 میں 7 سے 18 سال کی عمر کی تقریباً 38 لاکھ لڑکیاں اسکول سے باہر تھیں۔ ان میں 26 لاکھ سے زیادہ نوعمر لڑکیاں شامل تھیں۔ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو تعلیم سے محروم لڑکیوں کی تعداد آنے والے برسوں میں مزید بڑھ سکتی ہے۔ یوں ایک موجودہ پابندی مستقبل کی کئی نسلوں کے تعلیمی مواقع محدود کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ تاثر بھی درست نہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے روزگار کا مطالبہ صرف عالمی اداروں یا بیرونی قوتوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ افغانستان کے اندر بھی بڑی تعداد میں لوگ لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کے ایک سروے کے مطابق 92 فیصد افغان جواب دہندگان نے لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم کو اہم قرار دیا، جبکہ 91 فیصد نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق طالبان کی پالیسی ان کی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتی۔

یہ اعداد ایک اہم حقیقت سامنے لاتے ہیں کہ خواتین کی تعلیم اور روزگار کا معاملہ صرف عالمی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ خود افغان معاشرے کے ایک بڑے حصے کی ضرورت اور خواہش بھی ہے۔ کابل میں خواتین کا احتجاج اسی احساس کی عکاسی کرتا ہے کہ انہیں اپنے مستقبل کے فیصلوں میں بنیادی حق حاصل ہونا چاہیے۔

خواتین کو تعلیم اور روزگار سے دور رکھنے کے سماجی اثرات بھی طویل مدت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ تعلیم سے محرومی لڑکیوں کے لیے کم عمری کی شادی، بچوں سے مشقت اور دیگر سماجی خطرات کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔ دوسری جانب تعلیم یافتہ خواتین اپنے بچوں کی صحت، تعلیم اور تربیت میں بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لیے ایک لڑکی کی تعلیم دراصل صرف ایک فرد کی تعلیم نہیں بلکہ ایک خاندان اور آئندہ نسل کی بنیاد مضبوط کرنے کا عمل ہے۔

افغانستان اس وقت پہلے ہی معاشی مشکلات، انسانی بحران اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں خواتین کو معاشرے کے فعال حصے سے الگ کرنا ملک کے لیے اضافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ترقی کے لیے انسانی وسائل درکار ہوتے ہیں، اور افغانستان اپنی آبادی کے ایک بڑے حصے کی صلاحیتوں کو مسلسل محدود کرکے اپنے ہی انسانی وسائل کو کمزور کر رہا ہے۔

کابل کی خواتین کا حالیہ احتجاج اسی لیے محض ایک احتجاج نہیں بلکہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ایک سنجیدہ سوال ہے۔ اگر ایک ملک اپنی بیٹیوں کو اسکول جانے، یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے اور اپنی صلاحیت کے مطابق روزگار اختیار کرنے کا موقع نہیں دیتا تو وہ آنے والے برسوں میں اپنے لیے کتنے ڈاکٹر، اساتذہ، انجینئرز اور دیگر ماہرین پیدا کر پائے گا؟

اعداد و شمار پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ پالیسی کی قیمت بہت بھاری ہے۔ 26 لاکھ سے زائد لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں، ہزاروں ممکنہ خواتین اساتذہ اور طبی کارکنوں کا مستقبل خطرے میں ہے اور معیشت کو ہر سال کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

افغانستان کے سامنے اب فیصلہ صرف خواتین کے حقوق کا نہیں بلکہ اپنے مستقبل کا ہے۔ خواتین کو تعلیم، روزگار اور معاشرتی زندگی میں فعال کردار دینے سے نہ صرف ان کے بنیادی حقوق بحال ہوں گے بلکہ ملک کے انسانی وسائل، معیشت اور سماجی استحکام کو بھی تقویت ملے گی۔ کابل کی سڑکوں سے اٹھنے والی خواتین کی آواز دراصل ایک سادہ مگر اہم پیغام دے رہی ہے: کسی ملک کی نصف آبادی کو پیچھے چھوڑ کر پورا ملک آگے نہیں بڑھ سکتا

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے متوقع احتجاج کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا، سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔

September 8, 2026

آٹھ ستمبر کو یومِ بحریہ منایا جا رہا ہے۔ 1965 کا آپریشن دوارکا، معرکۂ حق اور آپریشن محافظُ البحر پاک بحریہ کی جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی نمایاں مثالیں ہیں۔

September 8, 2026

روسی تجزیہ کار آندرے سیریںکو کے مطابق طالبان داعش خراسان کے خطرے کو استعمال کرکے چین اور دیگر علاقائی ممالک سے عسکری حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

September 8, 2026

آٹھ ستمبر 1965 کو جنگِ ستمبر شدت اختیار کر چکی تھی۔ لاہور، سیالکوٹ، کھیم کرن اور اصَل اُتر کے محاذوں پر شدید لڑائی ہوئی، جبکہ چاوِنڈہ میں بڑی بکتر بند جنگ جاری رہی۔

September 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *