خوست میں فائرنگ سے طالبان کے اہم عہدیدار ہلاک ہو گئے۔ مرنے والے کا نام مولوی محمد ولی جاں ساجد ہے۔ وہ امر بالمعروف کے مقامی عہدیدار تھے۔ حملہ آور کارروائی کے فوراً بعد فرار ہو گئے۔
ابھی تک کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ مقامی پولیس نے واقعے کی باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔
مسلح افراد نے اچانک اندھا دھند فائرنگ کی۔ گولی لگنے سے مولوی ولی جاں موقع پر دم توڑ گئے۔
پولیس نے لاش کو ہسپتال منتقل کر دیا۔ فورسز نے پورے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
علاقے میں بڑھتی مزاحمت
خوست میں گزشتہ کئی ہفتوں سے حالات کشیدہ ہیں۔ مقامی سطح پر طالبان کے خلاف مزاحمت بڑھ گئی ہے۔
گزشتہ دنوں میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملے تیز ہوئے ہیں۔ نامعلوم عسکریت پسند مسلسل گوریلا کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے سکیورٹی فورسز پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
واقعے کے بعد شہر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔ داخلی راستوں پر سخت ناکہ بندی قائم ہے۔ پولیس ہر مشتبہ گاڑی کی تلاشی لے رہی ہے۔ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے گشت بڑھا دیا گیا ہے۔
دیکھیے: بدخشاں: طالبان کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ، اے ایف ایف کا 4 اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ