افغانستان میں مسلح مزاحمت کے واقعات میں تیزی آ گئی ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران ملک کے پانچ مختلف صوبوں میں کارروائیاں کی گئیں۔ مخالف گروہوں نے قندھار، خوست، غزنی، کنڑ اور بدخشاں کو نشانہ بنایا۔
ان حملوں میں طالبان کے انٹیلی جنس اہلکاروں اور چیک پوسٹوں کو نقصان پہنچا۔ اس کے ساتھ امر بالمعروف کے حکام اور پولیس اہلکار بھی زد میں آئے۔ مسلسل کارروائیوں نے طالبان کے سیکیورٹی نظام کو چیلنج کر دیا ہے۔
مختلف صوبوں میں حملے
افغان یونائیٹڈ فرنٹ نے قندھار کے ضلع 15 میں چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ تنظیم کے مطابق خوست میں امر بالمعروف کے عہدیدار محمد ولی جان کو نشانہ بنایا گیا۔ بدخشاں کے ضلع کشم اور غزنی میں بھی طالبان اہلکاروں پر حملے ہوئے۔
دوسری جانب افغان فریڈم فرنٹ نے کنڑ میں سابق فوجی اڈے پر حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ایک طالبان اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ بدخشاں کے ضلع زیباک میں طالبان فورسز کے حملے کو پسپا کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
این آر ایف نے بھی بدخشاں کے علاقے کوہستان راغ میں کارروائی کی۔ اس جھڑپ میں ایک طالبان اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔ مختلف علاقوں میں ہونے والے ان حملوں سے طالبان کی سکیورٹی گرفت متاثر ہو رہی ہے۔
دیکھیے: افغانستان: نامعلوم افراد کے حملے میں طالبان کے اہم عہدیدار ہلاک