جنگ ستمبر کی تاریخ پاکستان کے دفاع کی ایک عظیم اور ناقابل فراموش داستان ہے۔ 9 ستمبر 1965 کو پاک افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے دشمن کو بیک وقت تین مختلف محاذوں پر عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ اس کے بعد بھارتی فوج کو کئی علاقوں میں مسلسل پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستانی جوانوں نے عددی برتری کو ایمانی جذبے سے شکست دی۔ اس لیے دشمن کا پاکستان پر قبضے کا خواب ہمیشہ کے لیے چکنا چور ہو گیا۔
جنگ ستمبر میں جسر پل کا تاریخی دفاع
پاک فوج نے نارووال کے قریب جسر پل کے محاذ پر دشمن کی شدید گولہ باری کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ اس معرکے میں بھارتی فوج کے دستوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم وطن کے دفاع کی اس جنگ میں بہادر سپوت لیفٹیننٹ کلیم محمود نے شجاعت سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
فورسز نے دشمن کو آگے بڑھنے سے مکمل طور پر روک دیا۔ کیونکہ جوانوں نے جان کی پروا کیے بغیر اس اہم پل کا کامیابی سے دفاع کیا۔
پاک فوج کے دستوں نے سونا مرگ کے مغربی مقام پر اچانک اور موثر جوابی کارروائی کی۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بھارتی انجینئرز کی اہم ٹیم کو گہرا دھچکا پہنچا۔ اس کے بعد بھارت کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔
چنانچہ بھارتی کمانڈرز کی زمینی حکمت عملی بری طرح ناکام ہو گئی۔ پاک فوج کی اس پیش قدمی نے دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔
جنگ ستمبر اور پاک فضائیہ
پاک فضائیہ کے جانبازوں نے فضا میں مکمل غلبہ حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کی۔ اس دوران پاکستانی شاہینوں نے بھارت کے پٹھان کوٹ اور جودھ پور ایئر بیسز پر بمباری کر کے انہیں تباہ کر دیا۔
اس کے علاوہ فضائی معرکوں میں دشمن کے 28 جنگی جہاز فضا میں مار گرائے گئے۔ پاک فوج کی اینٹی ایئر کرافٹ گنز نے بھی دشمن کے 2 طیارے مار گرائے۔ جبکہ 36 جنگی جہاز زمین پر کھڑے تباہ کر دیے گئے۔
کلائی کونڈا ایئر بیس پر دشمن کے مزید 15 طیارے ملیا میٹ کیے گئے۔ لہٰذا پاک فوج نے زمین اور فضا میں اپنا لوہا منوایا۔ اس طرح جنگ ستمبر نے ثابت کیا کہ ملک کا دفاع ہر لحاظ سے ناقابل تسخیر ہے۔
دیکھیے: آٹھ ستمبر 1965، لاہور سے سیالکوٹ تک جنگ کا دائرہ پھیل گیا