سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کے بعد خطے کی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ چنانچہ پاکستان نے ایران کو سعودی عرب کا اہم پیغام پہنچا دیا ہے۔ اس پیغام میں تہران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے حوثی اتحادیوں کو قابو کرے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے نے اس رابطے کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ ایران حملے رکوانے کے لیے اپنا اثر استعمال کرے۔ اگر حملے نہ رکے تو پھر خطے میں بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ریاض میں سعودی حکام نے پاکستان اور ترکیہ کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ اس دوران تینوں ممالک نے دفاعی امور پر بات چیت کی۔ لیکن تینوں ممالک نے یمن کی حدود میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ معاہدہ صرف سعودی عرب کے دفاع تک محدود ہے۔ لہٰذا پاک فوج کسی دوسرے ملک میں کارروائی نہیں کرے گی۔ البتہ پاکستانی فورسز سعودی حدود میں فضائی اور تکنیکی مدد فراہم کر سکتی ہیں۔
سعودی تنصیبات پر تازہ کارروائی
یاد رہے کہ حوثیوں نے منگل کو سعودی شہر خمیس مشیط پر بڑا حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں ایئر بیس اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اس وجہ سے وہاں کم از کم 73 افراد زخمی ہو گئے۔ نتیجتاً یہ حملہ حالیہ مہینوں کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اب خلیجی خطے کی دفاعی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
دیکھیے: سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا: وزیر دفاع خواجہ آصف