پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بین الاقوامی تنازع قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ دی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت یکطرفہ فیصلوں سے متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔ پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیریوں کا مقدمہ پوری قوت سے اٹھائے گا۔
اس کے ساتھ انہوں نے بھارت میں قدیم مسجد کی مسماری پر سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے کشمیری رہنما یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان میں بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔ عالمی برادری کے سامنے کینیڈا اور امریکہ سمیت دیگر ممالک میں بھی بھارتی نیٹ ورک بے نقاب ہو چکا ہے۔
پاک افغان سرحد اور ویزا پالیسی
ترجمان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات اور سرحدی امور پر بھی تفصیلات جاری کیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدیں مکمل طور پر واضح اور نشان زدہ ہیں۔
دہشت گردی کی روک تھام دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین بنیادی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ سرحد پار جرائم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ پر منشیات کا ایک بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا ہے۔
سری لنکن حکام کے تعاون سے کی گئی اس کارروائی کا سرغنہ افغان باشندہ نکلا ہے۔ افغان طلبہ کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ تمام طلبہ کو ملک سے نہیں نکالا جا رہا۔
قانونی ویزا اور درست سفری دستاویزات رکھنے والے غیر ملکی طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ صرف غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
علاقائی سلامتی
سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مکہ معاہدے سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ خالصتاً دفاعی سکیورٹی فریم ورک ہے۔ سردست یمن میں کسی قسم کی عسکری کارروائی میں شمولیت پاکستان کے زیرِ غور نہیں۔
البتہ پاکستان نے ابہا، جازان اور خمیس مشیط پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ریاض کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حمایت غیر متزلزل رہے گی۔
فلسطین کی صورتحال پر ترجمان نے مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کے تجارتی بائیکاٹ کا خیرمقدم کیا۔ پاکستان مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق پر قائم ہے۔
دیکھیے: مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مؤقف بے بنیاد اور عالمی حقائق کے منافی ہے: پاکستان