خیبرپختونخوا میں تبدیلی اور ترقی کے بڑے بڑے دعوے اس وقت جھوٹے لگتے ہیں جب بنیادی سہولیات کی سچی تصویریں سامنے آتی ہیں۔ ضلع صوابی میں سرکاری اسکول کی بچیوں کا ندی اور برساتی نالے سے جان خطرے میں ڈال کر گزرنا، صوبائی حکومت کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ ایک طرف تعلیم کے بڑے بڑے نعرے ہیں اور دوسری طرف معصوم طالبات روزانہ موت کے منہ سے گزر کر اسکول جانے پر مجبور ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی لینا دینا نظر نہیں آتا۔ صوبائی حکمرانوں کو دھرنوں، احتجاجی ریلیوں اور اسلام آباد پر چڑھائی کے منصوبوں سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ جب سارا دھیان صرف اپنے قیدی لیڈر کے نعروں اور کرسی کی سیاست پر ہوگا، تو پھر عوام کی فکر کسے ہوگی؟ وزراء اور مشیر سرکاری وسائل کو اپنے سیاسی تماشوں پر پانی کی طرح بہا رہے ہیں، لیکن اسکول جانے والی ان بچیوں کے لیے ایک چھوٹا سا پل بنانے کے پیسے ان کے پاس نہیں ہیں۔
بدل رہا ہے خیبرپختونخوا
— Irfan Khan (@irfijournalist) September 10, 2026
کا نعرہ لگانے والے 12 سالہ حکمرانی میں کیا ایک پل تعمیر نہ کر سکے
یہ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کی ایک سرکاری سکول بچیاں ہیں جو تعلیم حاصل کر ے کیلئے اس راستے سے جاتی ہیں pic.twitter.com/cOBcfGJ3eG
صوابی کوئی دور دراز کا ویرانہ نہیں، بلکہ خود حکومتی پارٹی کے اہم رہنماؤں اور اسپیکر کا آبائی ضلع ہے۔ اگر اپنے ہی گڑھ میں یہ حال ہے تو باقی صوبے کے عوام کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ایک نالے پر لوہے یا سیمنٹ کا پل بنانا کوئی ناممکن کام نہیں، مگر اس کے لیے نیت اور احساس چاہیے۔ پی ٹی آئی کے حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ ان کی سیاست صرف جلسوں اور بیانات تک محدود ہو چکی ہے۔ عام آدمی کو پینے کا پانی ملے یا نہ ملے، بچیاں پانی میں ڈوبیں یا پھسلیں، حکمرانوں کی بلا سے۔
سوشل میڈیا پر کروڑوں کی اشتہاری مہم چلانے سے ترقی نہیں آتی، ترقی تب ہوتی ہے جب غریب کا بچہ محفوظ راستے سے اسکول پہنچے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ووٹ اپنے مسائل کے حل اور اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے دیا تھا، نہ کہ روز روز کے دھرنوں اور فساد کی سیاست کے لیے۔ اگر صوبائی حکومت نے اب بھی اپنے طور طریقے نہ بدلے اور اپنی توجہ اصل عوامی مسائل پر نہ دی، تو پھر عوام کا غصہ دھرنوں کے شور سے کہیں زیادہ بھاری ثابت ہوگا۔ صوابی کی بچیوں کو تقاریر نہیں، محفوظ پل چاہیے، اور یہ پل ہر صورت فوری بننا چاہیے۔