افغانستان میں عوام شدید غربت اور معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن طالبان حکومت کے انٹیلی جنس ادارے کی مبینہ لیک دستاویزات نے سب کو چونکا دیا ہے۔ کیونکہ جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (جی ڈی آئی) نے نفسیاتی جنگ کے لیے 7 کروڑ 70 لاکھ افغانی مختص کر رکھے ہیں۔
اس خفیہ پروگرام کا بنیادی مقصد مخالفین کو بدنام کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مزاحمتی گروہوں میں پھوٹ ڈالنے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔ اس لیے کابل حکومت عوامی مسائل کے بجائے پراپیگنڈا مہم کو ترجیح دے رہی ہے۔
طالبان کی ترجیحات پر سوالات
افغان عوام اس وقت خوراک اور روزگار کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ لیکن حکومت ریاستی خزانے سے لاکھوں روپے جھوٹے بیانیے پر لگا رہی ہے۔ اس لیے عالمی سطح پر طالبان کی طرزِ حکمرانی پر سخت سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کابل انتظامیہ عوام کے شکوک و شبہات دور کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ کیونکہ حکومت اپنے نقائص چھپانے کے لیے سوشل میڈیا ٹیموں کا سہارا لے رہی ہے۔ اس لیے مخالفین کو دیوار سے لگانے کے لیے بھاری فنڈز جھونکے جا رہے ہیں۔



پاکستان کے خلاف الزامات
لیک دستاویزات کے مطابق طالبان انٹیلی جنس ایک منظم اطلاعاتی جنگ چلا رہی ہے۔ تاکہ اپنی داخلی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جا سکے۔ اس لیے پاکستان کو بیرونی دشمن بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم طالبان کے خوف کی عکاسی کرتا ہے۔ کیونکہ افغان عوام اپنی حکومت کی پالیسیوں سے سخت نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے سچ دبانے کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جعلی مہم چلائی جا رہی ہے۔
پراپیگنڈا مہم
طالبان کے زیرِ انتظام چلنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس مسلسل جعلی بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔ تاکہ ان کی جھوٹی مہم کو عوام کی حقیقی رائے بنا کر پیش کیا جا سکے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
جو حکومت اپنے ناقدین کو دبانے کے لیے انٹیلی جنس استعمال کرے، اس کی ساکھ ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ عوام کو بھوک اور بیروزگاری سے نجات دلانا حکومت کی اصل ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس لیے 7 کروڑ 70 لاکھ افغانی کا یہ بجٹ مسائل چھپانے کا حربہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: کابل سے ایم بی بی ایس کرنے والا نوجوان دہشت گرد نکلا، کرم میں جھڑپ کے دوران ہلاک