لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

دھرنوں کی سیاست اور اسکول جاتی بچیوں کی بے بسی

صوابی میں اسکول کی بچیاں نالے سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ پل نہ ہونے سے ان کی جان کو روزانہ خطرہ رہتا ہے۔
صوابی میں اسکول کی بچیاں: پل کی عدم موجودگی

صوابی میں اسکول کی بچیاں پل نہ ہونے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ تاہم صوبائی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے دھرنوں میں مصروف ہے۔

September 11, 2026

خیبرپختونخوا میں تبدیلی اور ترقی کے بڑے بڑے دعوے اس وقت جھوٹے لگتے ہیں جب بنیادی سہولیات کی سچی تصویریں سامنے آتی ہیں۔ ضلع صوابی میں سرکاری اسکول کی بچیوں کا ندی اور برساتی نالے سے جان خطرے میں ڈال کر گزرنا، صوبائی حکومت کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ ایک طرف تعلیم کے بڑے بڑے نعرے ہیں اور دوسری طرف معصوم طالبات روزانہ موت کے منہ سے گزر کر اسکول جانے پر مجبور ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی لینا دینا نظر نہیں آتا۔ صوبائی حکمرانوں کو دھرنوں، احتجاجی ریلیوں اور اسلام آباد پر چڑھائی کے منصوبوں سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ جب سارا دھیان صرف اپنے قیدی لیڈر کے نعروں اور کرسی کی سیاست پر ہوگا، تو پھر عوام کی فکر کسے ہوگی؟ وزراء اور مشیر سرکاری وسائل کو اپنے سیاسی تماشوں پر پانی کی طرح بہا رہے ہیں، لیکن اسکول جانے والی ان بچیوں کے لیے ایک چھوٹا سا پل بنانے کے پیسے ان کے پاس نہیں ہیں۔

صوابی کوئی دور دراز کا ویرانہ نہیں، بلکہ خود حکومتی پارٹی کے اہم رہنماؤں اور اسپیکر کا آبائی ضلع ہے۔ اگر اپنے ہی گڑھ میں یہ حال ہے تو باقی صوبے کے عوام کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ایک نالے پر لوہے یا سیمنٹ کا پل بنانا کوئی ناممکن کام نہیں، مگر اس کے لیے نیت اور احساس چاہیے۔ پی ٹی آئی کے حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ ان کی سیاست صرف جلسوں اور بیانات تک محدود ہو چکی ہے۔ عام آدمی کو پینے کا پانی ملے یا نہ ملے، بچیاں پانی میں ڈوبیں یا پھسلیں، حکمرانوں کی بلا سے۔

سوشل میڈیا پر کروڑوں کی اشتہاری مہم چلانے سے ترقی نہیں آتی، ترقی تب ہوتی ہے جب غریب کا بچہ محفوظ راستے سے اسکول پہنچے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ووٹ اپنے مسائل کے حل اور اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے دیا تھا، نہ کہ روز روز کے دھرنوں اور فساد کی سیاست کے لیے۔ اگر صوبائی حکومت نے اب بھی اپنے طور طریقے نہ بدلے اور اپنی توجہ اصل عوامی مسائل پر نہ دی، تو پھر عوام کا غصہ دھرنوں کے شور سے کہیں زیادہ بھاری ثابت ہوگا۔ صوابی کی بچیوں کو تقاریر نہیں، محفوظ پل چاہیے، اور یہ پل ہر صورت فوری بننا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *