پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کے واقعات بڑھنے لگے ہیں۔ کیونکہ افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کر رہے۔ اس لیے اب وہاں کے پڑھے لکھے نوجوان بھی تخریب کاری میں شامل ہو رہے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے ضلع کرم میں خفیہ اطلاع پر فوری کارروائی کی۔ اس جھڑپ کے دوران فتنۃ الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ اس لیے علاقے میں دہشت گردی کا بڑا خطرہ وقت پر ٹل گیا۔
افغان ڈاکٹر مقابلے میں ہلاک
ہلاک دہشت گردوں میں افغانستان کے صوبے لوگر کا عبیداللہ سعید بھی شامل ہے۔ اس نوجوان نے رواں سال کابل سے ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی تھی۔ اس کے والد بھی ایک نامور ڈاکٹر ہیں۔
عبیداللہ تین روز قبل اپنے گروہ کے ساتھ کرم میں داخل ہوا تھا۔ لیکن پاکستانی فورسز نے دہشت گردوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ فائرنگ کے شدید تبادلے میں عبیداللہ اور اس کے 3 ساتھی مارے گئے۔
نوجوانوں میں انتہا پسندی کا خطرہ
ڈاکٹر بننے کے بعد دہشت گردی کی راہ اپنانا بہت بڑا خطرہ ہے۔ کیونکہ کالعدم گروہ اب پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغان حکومت کو ان گروہوں کے خلاف سخت قدم اٹھانا ہوگا۔ اگر بروقت کارروائی نہ ہوئی تو پورے خطے کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس لیے پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ: عالمی رپورٹس میں سنگین خطرات کی تصدیق