پی ٹی آئی نے ایک بار پھر 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم، پارٹی کو ایک جانب سیاسی دباؤ اور دوسری جانب قانونی مقدمات کا سامنا ہے۔ ایسے میں سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سہیل آفریدی کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ عدالت نے ان کے خلاف اشتہاری قرار دینے کی کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔ یوں احتجاجی سیاست کے ساتھ پی ٹی آئی قیادت کو اب مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں پر 26 نومبر کے احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں۔ پولیس کے مطابق اس مقدمے میں 42 گواہوں کے بیانات بھی قلم بند کیے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مبینہ جھوٹا بیانیہ پھیلانے سے متعلق سائبر کرائم مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔ پشاور میں 9 مئی کے ریڈیو پاکستان حملے کے مقدمے میں بھی سہیل آفریدی نامزد ہیں۔
احتجاج یا قانون سے فرار؟
پی ٹی آئی ایک بار پھر احتجاجی سیاست کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، پارٹی کے کئی رہنماؤں کو پہلے ہی مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔
قانونی ماہر شبیر حسین گیگیانی کے مطابق متعلقہ مقدمات میں ڈیجیٹل شواہد اور سی سی ٹی وی ریکارڈ بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ایسے شواہد عدالت میں اہمیت رکھتے ہیں۔
یوں 27 ستمبر کے مجوزہ اسلام آباد مارچ سے پہلے پی ٹی آئی کو سیاسی نعرے بازی کے ساتھ قانونی مقدمات کا بھی سامنا ہے۔ سہیل آفریدی کے وارنٹ نے پارٹی کی مشکلات مزید نمایاں کر دی ہیں۔
دیکھیے: حماد اظہر گرفتار، پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز