پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔ احتجاج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر کیا جائے گا۔
پی ٹی ایم کے مطابق احتجاج کا مقصد پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ تنظیم بین الاقوامی برادری سے مبینہ خلاف ورزیوں کے احتساب کا مطالبہ بھی کرے گی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس 8 ستمبر 2026 کو شروع ہوا۔ جنرل ڈیبیٹ 22 سے 28 ستمبر تک جاری رہے گا۔
پی ٹی ایم کی بیرونی معاونت
دوسری جانب پی ٹی ایم کی پاکستان مخالف مہم کے حوالے سے بیرونی روابط اور مالی معاونت کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پی ٹی ایم کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو شاہد کاکر کو مارچ 2026 میں بھارتی اکاؤنٹ سے تقریباً 11 ہزار پاؤنڈ منتقل کیے گئے۔ یہ مالی معاونت پی ٹی ایم کے بیرونی روابط سے متعلق سوالات کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔
طالبان سے مبینہ روابط
پی ٹی ایم اور افغانستان میں طالبان کے درمیان مبینہ روابط بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ طالبان کے کابل پولیس ترجمان خالد زدران کی کتاب 15 منٹس میں پی ٹی ایم اور طالبان شخصیات کے درمیان مبینہ رابطوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
کتاب کی اشاعت اور خالد زدران کی شناخت کی تصدیق موجود ہے۔ کتاب میں پی ٹی ایم سے متعلق مخصوص دعوے تاہم متنازع رہے ہیں۔
پی ٹی ایم پر دہشتگرد تنظیموں سے روابط کے الزامات بھی پہلے سامنے آتے رہے ہیں۔ ریاست کی جانب سے تنظیم کی سرگرمیوں پر اعتراضات بھی کیے جاتے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سامنے احتجاج
پی ٹی ایم کا اقوام متحدہ کے باہر احتجاج پاکستان میں انسانی حقوق، قومی سلامتی اور سیاسی سرگرمیوں سے متعلق بحث کو عالمی سطح پر لے جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ عالمی سطح پر مؤقف پیش کرنے کا اہم فورم ہے۔ تاہم کسی بھی بیانیے کی ساکھ شواہد اور قابلِ اعتماد معلومات سے قائم ہوتی ہے۔
پاکستان کے خلاف یا پاکستان کے حق میں پیش کیے جانے والے مؤقف کو حقائق اور قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر پرکھنا ضروری ہے۔
دیکھیے: کابل سے ایم بی بی ایس کرنے والا نوجوان دہشت گرد نکلا، کرم میں جھڑپ کے دوران ہلاک