نائن الیون کے پچیس سال بعد عالمی دہشت گردی ختم ہونے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور افغان پناہ گاہوں کے باعث خطے کے لیے بدستور سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔

September 15, 2026

یمن میں چینی ساختہ میزائل ملنے کے دعوے کو پاکستان سے جوڑنے والی ٹرمپ کے نام سے منسوب ٹویٹ جعلی نکلی۔

September 15, 2026

افغان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نصیب خان زدران کی مندر میں گھنٹیاں بجانے کی مبینہ ویڈیو نے طالبان کے شرعی بیانیے پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

September 15, 2026

جنوبی وزیرستان کے علاقے لوئر وانا میں دہشتگردوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں کمانڈر نصیر وزیر سمیت 2 اہم شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

September 15, 2026

ذبیح اللہ مجاہد اور حسن بن لادن کی تصویر سامنے آگئی۔ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے روابط ایک بار پھر زیر بحث آگئے۔

September 15, 2026

پی ٹی ایم نے اقوام متحدہ کے باہر احتجاج کا اعلان کردیا۔ پاکستان مخالف مہم، بیرونی روابط اور طالبان سے مبینہ تعلقات بھی زیر بحث آگئے۔

September 15, 2026

وانا میں دہشتگرد گروہوں کے درمیان خونریز جھڑپ، 2 اہم کمانڈر ہلاک

جنوبی وزیرستان کے علاقے لوئر وانا میں دہشتگردوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں کمانڈر نصیر وزیر سمیت 2 اہم شدت پسند ہلاک ہو گئے۔
وانا میں دہشتگرد گروہوں کے درمیان جھڑپ: 2 اہم دہشتگرد ہلاک

وانا میں دہشتگرد گروہوں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں 2 اہم کمانڈر ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ شدت پسندوں کے اندرونی اختلافات اور کمانڈ پر اس کے اثرات۔

September 15, 2026

وانا میں دہشتگرد گروہوں کے درمیان جھڑپ کے دوران دو اہم شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ لوئر وانا کے علاقے کرزئی پل کے قریب پیش آیا۔

ذرائع کے مطابق دہشتگرد گروہوں کے مابین اچانک شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں دہشتگرد سہیل مغل خیل موقع پر ہی مارا گیا۔

اس تصادم کے دوران گل بہادر گروپ کا اہم کمانڈر نصیر وزیر شدید زخمی ہو گیا تھا۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ نصیر وزیر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں دم توڑ گیا۔

جھڑپ کے دوران دونوں اطراف سے متعدد دیگر دہشتگردوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ علاقے میں اس واقعے کے بعد شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

اثر و رسوخ کی جنگ

دہشتگردوں کے مابین یہ تصادم ان کے اندرونی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ مختلف دھڑوں کے درمیان طاقت اور اثر و رسوخ کے حصول کے لیے رسہ کشی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اہم کمانڈر کی ہلاکت سے متعلقہ گروہ کا کنٹرول بری طرح متاثر ہو گا۔ اس سے شدت پسند تنظیم کی قیادت اور نیٹ ورک کا توازن بکھرنے کا قوی امکان ہے۔

تنظیمی یکجہتی کو شدید دھچکا

وانا کا یہ خونریز واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ شدت پسند نیٹ ورکس باہمی رقابت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کی آپسی چپقلش مسلسل خون خرابے کا سبب بن رہی ہے۔

اندرونی لڑائی اور بڑھتے ہوئے تنازعات ان نیٹ ورکس کو شدید کمزور کر رہے ہیں۔ اس کشمکش کی وجہ سے دہشتگردوں کی تنظیمی صلاحیت اور مجموعی اثر روز بروز گھٹ رہا ہے۔

دیکھیے: فتنہ الہندوستان سے گٹھ جوڑ: بی وائی سی کے کارندے نے تمام راز اگل دیے

متعلقہ مضامین

نائن الیون کے پچیس سال بعد عالمی دہشت گردی ختم ہونے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور افغان پناہ گاہوں کے باعث خطے کے لیے بدستور سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔

September 15, 2026

یمن میں چینی ساختہ میزائل ملنے کے دعوے کو پاکستان سے جوڑنے والی ٹرمپ کے نام سے منسوب ٹویٹ جعلی نکلی۔

September 15, 2026

افغان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نصیب خان زدران کی مندر میں گھنٹیاں بجانے کی مبینہ ویڈیو نے طالبان کے شرعی بیانیے پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

September 15, 2026

ذبیح اللہ مجاہد اور حسن بن لادن کی تصویر سامنے آگئی۔ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے روابط ایک بار پھر زیر بحث آگئے۔

September 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *