بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارندے محمد الیاس کا اہم اعترافی بیان سامنے آیا ہے۔ ملزم نے فتنہ الہندوستان کے ساتھ گٹھ جوڑ کا کھل کر اعتراف کیا۔
محمد الیاس نے بتایا کہ وہ بی ایل اے اور بی وائی سی دونوں کا فعال حصہ رہا ہے۔ اس نے انٹرنیٹ پر ریاست مخالف مواد پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
علاوہ ازیں ملزم سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز اور تصاویر سے عوام کو گمراہ کرتا رہا۔ اس کا مقصد نوجوانوں میں ریاست کے خلاف نفرت پیدا کرنا تھا۔
ملک دشمن ریلیوں میں شمولیت
ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ بی وائی سی کے جلسوں میں باقاعدہ شریک ہوتا رہا ہے۔ اس نے ان ریلیوں میں پاکستان کے خلاف تقاریر کیں اور نعرے بازی بھی کی۔
ماضی میں بھی متعدد گرفتار شدت پسند بی وائی سی سے تعلق کا اعتراف کر چکے ہیں۔ لہٰذا یہ تنظیم دہشتگردوں کے سہولت کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔
حقائق کے مطابق ہلاک ہونے والے کئی دہشتگرد بی وائی سی کی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھے۔ ان ہلاک دہشتگردوں میں برہان بلوچ، حفیظ بلوچ اور عبدالحمید شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ہی راشد بلوچ، صہیب لانگو اور کریم جان بھی جھوٹی فہرستوں میں درج تھے۔ تاہم بی وائی سی نے آج تک دہشتگردی کی کسی کارروائی کی مذمت نہیں کی۔
دیکھیے: ٹی ٹی پی کا بین الاقوامی نیٹ ورک: غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی کا سنگین انکشاف