ڈی جی آئی ایس پی آر نے عرب نیوز کو ایک انٹرویو دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مسئلہ افغانستان کے ساتھ نہیں ہے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ افغان طالبان رجیم کے طرزِ عمل سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابل رجیم سے پاکستان کا صرف ایک ہی واضح مطالبہ ہے۔ طالبان رجیم پاکستان کے اندر دہشت گردی کی سرپرستی فوری بند کرے۔ یہ ایک انتہائی سادہ اور ٹھوس بات ہے جو دونوں ممالک کے معاملات کو درست کر سکتی ہے۔
دہشت گردوں کے ٹھکانے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردوں کا داخلہ روکا جائے۔ سرحد پار دہشت گردوں کی تربیت گاہیں اور مراکز ختم کیے جائیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے سرغنہ اس وقت کہاں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام دہشت گرد سرغنہ کابل، قندھار اور دیگر افغان علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ افغان انتظامیہ ان عناصر کو ہر قسم کی لاجسٹک سپورٹ دینا بند کرے۔ خطے کے امن کے لیے ان پناہ گاہوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
افغان خودکش بمبار
ترجمان پاک فوج نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں سرگرم لگ بھگ 80 فیصد خودکش بمبار افغان شہری ہیں۔ سیکیورٹی فورسز جب بھی کسی دہشت گرد گروہ کو بے اثر کرتی ہیں تو اس میں افغان شہری برآمد ہوتے ہیں۔ یہ تمام عسکری تشکیلیں افغانستان کی حدود سے پاکستان بھیجی جاتی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کو قابو نہ کرنے کے لیے صلاحیت کے فقدان کا عذر محض ایک فضول بہانہ ہے۔ افغانستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور اے کیو آئی ایس جیسی کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں۔ افغان عبوری رجیم کو ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنا ہوگی۔