شاور: کوہاٹ پولیس لائنز مسجد میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی سیاسی گفتگو پر عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ نے شہداء کے لواحقین کو دلاسہ دینے اور غم بانٹنے کے بجائے اپنی گفتگو کا رخ تحریک انصاف کی سیاست اور پارٹی قیادت کی جانب موڑ دیا۔ انہوں نے تعزیتی تقریب میں سیاسی گلے شکوے شروع کیے اور عمران خان کی مبینہ پالیسیوں پر عملدرآمد کو امن کا راستہ قرار دیا۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں بارہ سال سے تحریک انصاف کی حکمرانی کے باوجود دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ ناقدین کے مطابق ایک سنجیدہ اور حساس موقع پر سوگوار خاندانوں کے سامنے سیاسی رونا رونا اور ایک قیدی رہنما کا بیانیہ دہرانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔
سماجی حلقوں نے ماضی میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کی پالیسیوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا مسلسل قربانیاں دے رہا ہے، جبکہ صوبائی قیادت امن وامان قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں نے اس طرزِ عمل کو شہداء کی قربانیوں کی توہین قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبائی قیادت کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور سکیورٹی چیلنجز پر سیاست چمکانے سے گریز کرنا چاہیے۔