مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

طالبان کے متضاد بیانات: ذبیح اللہ مجاہد کی تردید اور مولوی عبدالکبیر کے اشتعال انگیز فتوے

العربیہ کو دیے گئے ذبیح اللہ مجاہد کے وضاحتی انٹرویو اور سابق افغان وزیر مولوی عبدالکبیر کی جانب سے مسجد حملے کے مبینہ جواز نے کابل کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان پر کابل کے متضاد بیانات

افغان طالبان کے مرکزی ترجمان کی تردید اور سابق وزیر مولوی عبدالکبیر کی جانب سے حملوں کے جواز نے کابل کے تضاد کو عیاں کر کے پاکستانی مؤقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔

September 20, 2026

افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو میں ایک بار پھر روایتی مؤقف دہرایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مبصرین کے مطابق یہ بیانات محض عالمی دباؤ کم کرنے کی ایک سفارتی کوشش ہیں۔

افغان رہنماؤں کے بیانات

ایک طرف کابل کی جانب سے کارروائیوں کی تردید کی جا رہی ہے، تو دوسری جانب طالبان قیادت کی صفوں سے مسلسل متضاد اور انتہاپسندانہ بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ سابق افغان وزیر مولوی عبدالکبیر کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں اور بالخصوص کوہاٹ کی مسجد پر حملے کے مبینہ جواز نے کابل کے داخلی بیانیے کو پوری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔

عملی اقدامات؟

کابل انتظامیہ کی زبانی یقین دہانیوں کے برعکس سرحد پار کالعدم عسکری عناصر کے خلاف اب تک کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق افغان سرزمین پر ان گروہوں کو ملنے والی مبینہ آزادی اور بعض وزرا کی فکری تائید واضح کرتی ہے کہ کابل کے الفاظ اور افعال میں گہرا فاصلہ ہے۔

پاکستان کا مؤقف

کابل کے اس کھلے دوہرے معیار نے پاکستان کے اصولی مؤقف پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہے۔ پاکستان عالمی فورمز پر مسلسل یہ باور کراتا رہا ہے کہ سرحد پار موجود نیٹ ورک کو عملی سہولت کاری حاصل ہے۔ حالیہ متضاد پیش رفت اور شواہد نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی خدشات مکمل طور پر مبنی بر حقیقت ہیں۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *