افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو میں ایک بار پھر روایتی مؤقف دہرایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مبصرین کے مطابق یہ بیانات محض عالمی دباؤ کم کرنے کی ایک سفارتی کوشش ہیں۔
افغان رہنماؤں کے بیانات
ایک طرف کابل کی جانب سے کارروائیوں کی تردید کی جا رہی ہے، تو دوسری جانب طالبان قیادت کی صفوں سے مسلسل متضاد اور انتہاپسندانہ بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ سابق افغان وزیر مولوی عبدالکبیر کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں اور بالخصوص کوہاٹ کی مسجد پر حملے کے مبینہ جواز نے کابل کے داخلی بیانیے کو پوری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔
عملی اقدامات؟
کابل انتظامیہ کی زبانی یقین دہانیوں کے برعکس سرحد پار کالعدم عسکری عناصر کے خلاف اب تک کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق افغان سرزمین پر ان گروہوں کو ملنے والی مبینہ آزادی اور بعض وزرا کی فکری تائید واضح کرتی ہے کہ کابل کے الفاظ اور افعال میں گہرا فاصلہ ہے۔
پاکستان کا مؤقف
کابل کے اس کھلے دوہرے معیار نے پاکستان کے اصولی مؤقف پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہے۔ پاکستان عالمی فورمز پر مسلسل یہ باور کراتا رہا ہے کہ سرحد پار موجود نیٹ ورک کو عملی سہولت کاری حاصل ہے۔ حالیہ متضاد پیش رفت اور شواہد نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی خدشات مکمل طور پر مبنی بر حقیقت ہیں۔