تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تین شرائط پیش کردی ہیں۔ ایران نے یہ شرائط قطر کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی ہیں۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ تہران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
ایران کی تین شرائط
محسن رضائی کے مطابق ایران کسی ممکنہ معاہدے کے لیے تین بنیادی مطالبات رکھتا ہے۔ ان میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران قطر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ قطری ثالث نے تہران کے مطالبات واشنگٹن تک پہنچا دیے ہیں۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق قطر اور پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ یہ کوششیں گزشتہ ماہ مفاہمتی یادداشت ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہیں۔
سعودیہ یمن جنگ
محسن رضائی نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے میں مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران حقیقی طور پر سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اگر دونوں فریق ایران سے مدد طلب کریں تو تہران امن کے حصول میں معاونت کے لیے تیار ہے۔
محسن رضائی نے یمن کے تنازع میں ایرانی کردار کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران فریقین کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ باب المندب کا معاملہ یمن اور حوثیوں سے متعلق ہے۔
جوہری معاہدے سے دستبرداری
ایرانی سکیورٹی چیف نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے معاہدے، این پی ٹی، سے دستبرداری کے امکان پر بھی بات کی۔
الجزیرہ کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے ابھی این پی ٹی سے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم امریکہ کے طرز عمل اور مزید دباؤ کی صورت میں تہران اس راستے پر غور کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے سابق رہبر آیت اللہ روح اللہ خمینی کے فتوے پر قائم ہے اور اس کے جوہری نظریے میں تبدیلی نہیں آئی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران تہران نے مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ دوسری جانب ایران نے ممکنہ دوبارہ جنگ کے لیے بھی تیار رہنے کا مؤقف ظاہر کیا ہے۔