سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا ہے۔ کارروائی کے دوران تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عسکریت پسند ڈاکٹر عبیداللہ سعید بدری مبینہ طور پر ہلاک ہو گیا۔ فورسز کی بروقت کارروائی میں اس کے تین دیگر مسلح ساتھی بھی مارے گئے۔
خاندانی پس منظر
ہلاک ہونے والا عسکریت پسند افغان شہری تھا اور اس کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہ گاؤں شاہی قلعہ کے رہائشی غلام غوث صالحی کا بیٹا تھا۔ اس کی ہلاکت نے ثابت کیا ہے کہ غیر ملکی جنگجو پاکستان میں تخریب کاری کے لیے براہِ راست داخل ہو رہے ہیں۔
افغان قیادت سے روابط
عبیداللہ بدری کی ایک تصویر بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ افغان طالبان کے مفتی عبدالحمید حماسی کے ساتھ موجود ہے۔ حماسی کو اس کا مبینہ فکری اور نظریاتی استاد بتایا جاتا ہے۔ یہ تصویر افغان مذہبی حلقوں اور سرحد پار دہشت گردوں کے درمیان گہرے فکری روابط کی واضح گواہی دیتی ہے۔
پاکستانی مؤقف کی توثیق
افغان نژاد کمانڈر کی ہلاکت سے پاکستان کا دیرینہ مؤقف ایک بار پھر سچا ثابت ہو گیا ہے۔ اسلام آباد مسلسل دنیا کو باور کرا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور سہولت کاری میسر ہے۔ میدانِ جنگ میں افغان شہریوں کی ہلاکت سے کابل کے دعووں کی حقیقت مکمل طور پر عیاں ہو چکی ہے۔
دیکھیے: طالبان کے متضاد بیانات: ذبیح اللہ مجاہد کی تردید اور مولوی عبدالکبیر کے اشتعال انگیز فتوے