افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کنڑ اور پکتیکا میں مبینہ شہری نقصانات کا الزام عائد کیا ہے۔ دفاعی مبصرین کے مطابق یہ طالبان کا پرانا طریقہ کار ہے۔
جب بھی پاکستان مخالف دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے، افغان رجیم مظلومیت کا راگ الاپنے لگتی ہے۔ اس پروپیگنڈے کا واحد مقصد سرحد پار دہشت گردی سے عالمی برادری کی نظریں چرانا ہے۔
دہشت گرد نیٹ ورکس
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق 2025 میں تحریک طالبان پاکستان نے سرحد پار 600 سے زائد حملے کیے۔ طالبان حکومت ان گروہوں کو نہ صرف پناہ بلکہ مالی اور عملی مدد بھی دیتی ہے۔
سال 2026 کے دوران پاکستان میں ہونے والے متعدد حملوں کے خودکش بمبار افغان شہری نکلے۔ ڈیرہ اسماعیل خان، اسلام آباد، باجوڑ، کراچی اور کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں افغان شہری ہی ملوث پائے گئے۔
معصوم شہریوں کا استعمال
افغان طالبان دہشت گردوں کو شہری آبادیوں کے اندر ٹھکانے فراہم کرتے ہیں۔ کارروائی کے وقت خواتین اور بچوں کی موجودگی کو سیاسی اور سفارتی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
سال 2025 میں افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے باعث پاکستان کے 1200 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ افغان سرزمین کے مسلسل غلط استعمال کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو کابل رجیم کا فوری اور شفاف محاسبہ کرنا ہوگا۔
دیکھیے: طالبان کا شہری ہلاکتوں کا بیانیہ: سرحد پار دہشت گردی چھپانے کی مذموم کوشش