خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور اراکین اسمبلی کی مبینہ گمشدگیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق یہ اقدام گرفتاریوں سے بچنے اور سیاسی ناکامی چھپانے کا حربہ ہے۔
بتایا گیا ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان سمیت پارٹی رہنما اپنے موبائل فون بند کر کے منظر عام سے غائب ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے اغوا یا جبری گمشدگی کا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق فضل محمد خان کے مبینہ اغوا کا دعویٰ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس کا مقصد عوامی ہمدردی حاصل کرنا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ احتجاجی کال ناکام ہونے کے باعث قیادت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ عوام کی عدم شرکت نے رہنماؤں کو شرمندگی میں مبتلا کر دیا ہے۔
خود ساختہ روپوشی
دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی رکن اسمبلی یا پارٹی عہدیدار اغوا نہیں ہوا۔ رہنما اپنی ساکھ بچانے کے لیے خود روپوش ہو رہے ہیں۔
عوام میں یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے کہ موجودہ سیاسی تحریک عوامی مسائل کے حل کے لیے نہیں۔ ان اقدامات کا مقصد محض ذاتی و سیاسی مفادات کا تحفظ ہے۔
وفاقی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ امن و امان کی خرابی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا مالی نقصان کی مکمل ذمہ داری تحریک انصاف کی قیادت پر عائد ہوگی۔
حکومتی احکامات کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح متحرک ہیں۔ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
سیاسی حکمت عملی
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کے پاس اب قانونی اور سیاسی راستے محدود ہو چکے ہیں۔ قانونی کارروائی سے فرار کے لیے خود ساختہ گمشدگی کا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
اس حکمت عملی کے باعث سیاسی سطح پر تحریک انصاف کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوامی حلقوں میں بھی ان دعوؤں کی صداقت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دیکھیے: کے پی بدامنی اور آرٹیکل 232: کیا وفاق کے پاس ایمرجنسی کا آئینی راستہ موجود ہے؟