خیبرپختونخوا حکومت کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ نئے قانون سے پولیس میں سیاسی مداخلت اور اختیارات کے ارتکاز کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

September 23, 2026

تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ممکنہ مارچ سے قبل ریلی میں مبینہ طور پر اسلحے کے استعمال کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔

September 23, 2026

ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام، عوامی مسائل کے حل اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق ایک اہم تجزیاتی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

September 23, 2026

مکہ معاہدے کے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو سونپ دی گئی۔

September 23, 2026

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ اشتعال انگیز مواد پھیلانے کے الزام میں پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

September 23, 2026

خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی 13 سالہ تاخیر اور ایک نابینا پر نقل کا پرچہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ بصیرت سے محروم بدعنوان انتظامی نظام کا ہے۔

September 23, 2026

حیات آباد چلڈرن ہسپتال: 13 برس کی مجرمانہ لاپرواہی

خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی 13 سالہ تاخیر اور ایک نابینا پر نقل کا پرچہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ بصیرت سے محروم بدعنوان انتظامی نظام کا ہے۔
خیبرپختونخوا انتظامیہ اور چلڈرن ہسپتال

خیبرپختونخوا میں 13 برس بعد بھی چلڈرن ہسپتال کا ادھورا رہنا اور نابینا طالب علم پر نقل کا مضحکہ خیز کیس انتظامی بے حسی کا واضح ثبوت ہے۔

September 23, 2026

کسی بھی ریاست میں حکمرانی کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس کی نگاہیں کمزور اور لاچار طبقے کے مسائل کو کس قدر باریک بینی سے دیکھتی ہیں اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر کس سنجیدگی سے عمل کرتی ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خیبرپختونخوا کا انتظامی ڈھانچہ اس وقت نہ صرف اپنے بنیادی فرائض سے غافل ہے بلکہ عملی طور پر عقل و بصیرت سے یکسر خالی دکھائی دیتا ہے۔

ایک طرف صوبے کے معصوم اور بیمار نونہالوں کے لیے تیرہ سال قبل شروع کیا جانے والا مخصوص چلڈرن ہسپتال آج تک مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا، تو دوسری جانب اسی صوبے کا امتحانی عملے نے ایک ایسے طالب علم پر نقل کا پرچہ کاٹ دیتا ہے جو قدرت کی طرف سے بینائی کی نعمت سے محروم ہے۔ یہ دونوں واقعات اس تلخ سچائی پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ اصل نابینا وہ معذور طالب علم نہیں، بلکہ ہمارا پورا انتظامی اور حکومتی نظام ہے۔

حیات آباد پشاور میں خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن اسپتال کا سنگ بنیاد جون 2013 میں رکھا گیا تھا۔ اس منصوبے کا خواب یہ تھا کہ صوبے کے غریب اور لاچار والدین کو اپنے جگر کے ٹکڑوں کے پیچیدہ امراض، دل کے پیدائشی عوارض اور کینسر جیسے موذی امراض کے علاج کے لیے اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے دھکے نہ کھانے پڑیں۔ ابتدائی پی سی ون کے تحت اس منصوبے کو محض تین برس یعنی 2016 تک مکمل ہونا تھا اور اس پر 2.2 ارب روپے لاگت آنی تھی۔ مگر روایتی بیوروکریسی، فنڈز کی مصنوعی کمی، سست روی اور فائلوں کے گورکھ دھندے نے اس اہم عوامی منصوبے کو نوکر شاہی کے دفاتر کی نذر کر دیا۔

تیرہ سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے بعد منصوبے کی لاگت 2.2 ارب سے بڑھ کر تقریباً 7.9 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جس میں سے 5.8 ارب روپے کے خطیر عوامی وسائل اب تک جھونکے جا چکے ہیں۔ اب یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ 2025 تک نوے فیصد سول ورک مکمل ہو گیا تھا، لیکن طبی آلات اور ضروری مشینری کی عدم دستیابی کے باعث اسپتال فعال نہ ہو سکا۔ اسی دوران حکومتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے روایتی بیوروکریٹک حربہ آزمایا گیا، ادارے کو ایم ٹی آئی کا درجہ دے کر بورڈ آف گورنرز بنا دیا گیا اور پھر جنوری 2026 میں ڈین، ڈائریکٹرز اور سپر اسپیشلسٹس کی بھرتیوں کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔

جون 2026 میں مزید 2.1 ارب روپے جاری کیے گئے تاکہ مشینیں خریدی جا سکیں۔ جو کام ایک دہائی پہلے مکمل ہو جانا چاہیے تھا، اس کی مسلسل تاخیر کے دوران غربت کے مارے کتنے ہی معصوم بچے مناسب علاج نہ ملنے کے باعث مٹی کی اوڑھنی اوڑھ گئے، اس کا حساب کون دے گا؟

سنگین عوامی مسائل اور صحت کے شعبے سے اس کھلی اور مجرمانہ لاپرواہی کے برعکس، نظام کی بے حسی اور بدحواسی کا تماشا اس وقت کھل کر سامنے آیا جب ایک نابینا طالب علم کے خلاف امتحانی ہال میں نقل کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔ جو بچہ آنکھوں سے کاغذ کو دیکھ تک نہیں سکتا، اس پر نقل کی دفعات لگا کر سرکاری عملہ اپنی کارکردگی کے تمغے سجا رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی غلطی یا اتفاقی کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ اس مردہ ضمیر اور کھوکھلے نظام کا عکاس ہے جہاں فائلیں پر کرنے والے بابوؤں اور نگرانوں کو معذور انسانوں کے دکھ دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی ہسپتالوں کے باہر تڑپتے ہوئے بچے۔

یہ تضاد اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ خرابی وسائل کی نہیں بلکہ نیت، اخلاص اور انتظامی بصیرت کی ہے۔ جب اربابِ اقتدار اپنی ترجیحات سے بھٹک جائیں تو عوامی مفاد کے اربوں روپے کے منصوبے دہائیوں تک کھنڈر بنے رہتے ہیں اور ریاستی طاقت کا سارا زور نابیناؤں اور کمزوروں پر چلتا ہے۔

خیبرپختونخوا کی حکومت اور مقتدر حلقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اب محض بیانات، نئے بورڈز کی تشکیل اور فنڈز کے علامتی اعلانات سے کام نہیں چلے گا۔ اگر ریاست اپنے بچوں کو سانس لینے اور علاج پانے کا حق بھی فراہم نہیں کر سکتی، تو اس نظام کے قائم رہنے کی کوئی اخلاقی بنیاد باقی نہیں بچتی۔ حیات آباد کے چلڈرن اسپتال کو فوری طور پر مکمل فعال بنایا جائے اور اس طویل تاخیر کے تمام ذمہ داروں کا بلا امتیاز سخت احتساب کیا جائے تاکہ عوام کا حکومت اور اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔

دیکھیے: لہو میں ڈوبا پختونخوا اور حکمران جماعت کا احتجاجی جنون

متعلقہ مضامین

خیبرپختونخوا حکومت کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ نئے قانون سے پولیس میں سیاسی مداخلت اور اختیارات کے ارتکاز کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

September 23, 2026

تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ممکنہ مارچ سے قبل ریلی میں مبینہ طور پر اسلحے کے استعمال کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔

September 23, 2026

ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام، عوامی مسائل کے حل اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق ایک اہم تجزیاتی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

September 23, 2026

مکہ معاہدے کے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو سونپ دی گئی۔

September 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *