ملک کے مختلف شہروں میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بہتر طرزِ حکمرانی، فوری انصاف اور پائیدار ترقی کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
رحیم یار خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر پاکستان کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے بھی نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کردی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامی نظام عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔ خاص طور پر دور دراز علاقوں کے شہریوں کو بنیادی مسائل کے حل کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔
جنوبی پنجاب کے مسائل
خالد محمود کھوکھر کے مطابق رحیم یار خان کے کسانوں کو انصاف، تعلیم اور دیگر بنیادی مسائل کے لیے لاہور کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس صورت حال سے عوام کو وقت اور وسائل دونوں کا نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے صوبے میں انتظامی معاملات کو مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ اس لیے انتظامی اختیارات کو مقامی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر پاکستان کسان اتحاد نے پنجاب میں کم از کم 6 سے 10 صوبے بنانے کی تجویز پیش کی۔ ان کے مطابق اس اقدام سے عوام کو سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔
بجٹ اور جنوبی پنجاب
خالد محمود کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ صوبائی بجٹ میں جنوبی پنجاب کا حصہ تقریباً 35 فیصد بنتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق علاقے کو صرف 12 فیصد حصہ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنوبی پنجاب سمیت پسماندہ علاقوں کے لیے ترقیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے مقامی مسائل مقامی سطح پر حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
نئے انتظامی یونٹس
نئے صوبوں کا مطالبہ اب صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی انتظامی یونٹس میں اضافے کی حمایت کر رہے ہیں۔
حامیوں کا مؤقف ہے کہ آبادی، رقبے اور انتظامی ضروریات میں اضافے کے باعث بڑے صوبوں کو مزید انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس سے شہریوں کو سرکاری اداروں، تعلیم، صحت، انصاف اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی آسان بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
خالد محمود کھوکھر نے مطالبہ کیا کہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کے لیے سنجیدہ بحث شروع کی جائے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے پسماندہ علاقوں کے مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
نئے صوبوں کا قیام آئینی اور سیاسی عمل سے مشروط ہے۔ تاہم مختلف علاقوں سے سامنے آنے والے مطالبات نے ملک میں انتظامی تقسیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث دوبارہ نمایاں کردی ہے۔
دیکھیے: سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، شہری میدان پر آگئے