ایران اور روس کے درمیان جدید ایس 400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت روس جلد ایران کو یہ جدید دفاعی نظام فراہم کر سکتا ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے ہونے والی حالیہ پیش رفت میں ایس 400 نظام کی فراہمی کا معاہدہ بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روسی صدر اور ایرانی حکام کے حالیہ دوروں کے دوران دفاعی تعاون کے علاوہ گیس کی نئی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی۔
اخبار کے مطابق روس کئی برس سے ایران کو ایس 400 نظام فروخت کرنے کا عندیہ دیتا رہا ہے، تاہم اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کے خدشے کے باعث اس معاملے پر پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے حالیہ عرصے میں روس کے ساتھ ہتھیاروں کی فراہمی کے متعدد معاہدے کیے ہیں۔ یہ معاہدے ایران کی طویل مدتی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد امریکہ کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں اپنی دفاعی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔
دی ٹیلی گراف نے ایران کے لیے روسی میزائلوں کی تیاری کا بھی انکشاف کیا ہے، جنہیں ہیلی کاپٹر سے فائر کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کے دورہ ماسکو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر بھی سوالات اٹھے ہیں کہ روس ایران کی مدد نہیں کر رہا۔





