افغان طالبان کی جانب سے اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے دعوے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ کابل حکومت پاکستان کے خلاف مبینہ بھارتی سرپرستی میں لڑی جانے والی پراکسی جنگ کی ذمہ داری تسلیم کرنے سے مسلسل گریزاں ہے۔
رواں سال 2026 کے دوران افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں 1,327 پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ ان کارروائیوں میں 2,484 افراد شدید زخمی بھی ہوئے، جو اس سرحد پار دہشت گردی کے المناک نتائج کو ظاہر کرتے ہیں۔
ٹی ٹی پی اور افغان شہری
پاکستان میں کارروائیوں کے دوران فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) کی صفوں میں لڑنے والے 260 افغان شہری ہلاک ہوئے۔ ان تمام افراد کی باقاعدہ شناخت ان کے نام اور مکمل پتے کے ساتھ کی جا چکی ہے۔

ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کے جنازے افغانستان میں واقع ان کے آبائی علاقوں میں ادا کیے جاتے ہیں۔ ان جنازوں میں افغان طالبان انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی شرکت ریکارڈ پر موجود ہے۔
یہ وہ افراد ہیں جن کا ریکارڈ اور شناخت مکمل ہو سکی۔ غیر شناخت شدہ اور تاحال متحرک افغان جنگجوؤں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ زمینی شواہد کے مطابق پاکستان میں دراندازی کرنے والے ہر گروہ میں 60 سے 70 فیصد تک افغان باشندے شامل ہوتے ہیں۔
جدید کی فراہمی
افغان حکومت نے کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو نیٹو اور امریکی افواج کا چھوڑا ہوا اسلحہ فراہم کیا ہے۔
دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث بیشتر جنگجو جدید ایم فور رائفلز اور ریمنگٹن سنائپر رائفلز سے لیس پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے جدید ترین امریکی نائٹ ویژن ڈیوائسز کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔
دیکھیے: کنڑ میں داعش سربراہ کی موجودگی: افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کا واضح ثبوت سامنے آ گیا