کوئٹہ: پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افغان عناصر کے ٹھوس شواہد ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مستونگ حملے میں ہلاک ہونے والے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں میں افغان باشندے شامل تھے۔ کارروائی کے دوران ہلاک دہشت گرد ذوالفقار عرف ابو عمر کے قبضے سے افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) کا کارڈ ملا ہے۔
دوسرے ہلاک دہشت گرد خلیل احمد سے افغان شناختی دستاویز یعنی تذکرہ برآمد ہوا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے اکثر واقعات میں افغان باشندے ہی براہ راست ملوث پائے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان طالبان رجیم کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ پہلے بھی بے نقاب ہو چکا ہے۔ اس سے قبل سامنے آنے والی ایک خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں اس مشترکہ خفیہ نیٹ ورک کی تصدیق کی گئی تھی۔
خفیہ رپورٹ کے مطابق بھارتی ایجنسی را نے بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی پھیلانے کے لیے 78 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم فراہم کی تھی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملا ہیبت اللہ کی ہدایات پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو جدید اسلحہ اور لاجسٹک معاونت دی گئی۔ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف مسلسل استعمال دونوں ممالک کے تعلقات میں سنگین رکاوٹ بن رہا ہے۔