پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور حکمرانی کے مسائل نے نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ ادارہ برائے بصیرت و اثرات، اسٹریٹجک اسٹڈیز کے نئے تحقیقی مطالعے نے اس ضرورت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں قومی سطح پر 76 فیصد نوجوانوں نے نئے صوبوں کے قیام کو وقت کا تقاضا قرار دیا، جبکہ 24 فیصد نے روایتی تحفظات کے باعث مخالفت کی۔
نئے صوبوں کی حمایت
نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر سمجھنے والوں میں سے 46.9 فیصد نے طرزِ حکمرانی اور انتظامی دفاتر تک آسان رسائی کو بنیاد بنایا۔ بنیادی خدمات اور یکساں ترقی کے لیے 27.2 فیصد نے اس اقدام کو لازمی قرار دیا۔ آبادی کے بڑھتے بوجھ اور انتظامی حجم کی وجہ سے 17 فیصد نے اس کی توثیق کی۔ نمائندگی اور شفاف انصاف کے حصول کے لیے 10.5 فیصد نوجوان سامنے آئے۔ دوسری جانب 28.6 فیصد نے شناخت، 26.1 فیصد نے بیوروکریسی کے اخراجات، 14.1 فیصد نے سیاسی بے یقینی اور 12.4 فیصد نے پہلے بلدیاتی اداروں کی مضبوطی کا حوالہ دیا۔
صوبائی سطح پر حمایت
صوبائی تقابل ظاہر کرتا ہے کہ آبادی کے بڑے مراکز میں نئے انتظامی یونٹس ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں 79 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 75 فیصد نوجوانوں نے حمایت کی۔ بلوچستان کے 71 فیصد نوجوانوں نے وسیع رقبے کے باعث نئے صوبوں کو حل قرار دیا۔
سندھ میں 59 فیصد نے تائید کی جبکہ 41 فیصد نے تحفظات ظاہر کیے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 74 فیصد نوجوان نئے صوبوں کے حق میں آئے۔ آزاد کشمیر میں 64 فیصد اور گلگت بلتستان میں 59 فیصد نے مخالفت کی، تاہم بلتستان خطے میں حمایت کا تناسب 62 فیصد رہا۔
پنجاب میں انتظامی تقسیم
پنجاب کے طول و عرض میں نئے صوبوں کی حمایت 78.6 فیصد اور مخالفت محض 21.4 فیصد رہی۔ فیصل آباد اور سرگودھا ڈویژنز کے 90 فیصد نوجوانوں نے نئے صوبوں کو لازمی قرار دیا۔ بہاولپور میں یہ شرح 89 فیصد رہی۔ لاہور، گوجرانوالہ، ملتان اور ساہیوال میں 86 فیصد تائید دیکھی گئی۔
راولپنڈی میں 84، گجرات میں 76 اور ڈیرہ غازی خان میں 66 فیصد نے حمایت کی۔ اضلاع کی سطح پر رحیم یار خان، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سیالکوٹ، قصور، اٹک، بھکر، خوشاب اور میانوالی میں 90 فیصد نوجوانوں نے نئے صوبوں کے حق میں فیصلہ دیا۔
سندھ کے انتظامی مسائل
سندھ میں 59.3 فیصد نوجوانوں نے نئے صوبوں کی حمایت اور 40.7 فیصد نے مخالفت کی۔ حیدرآباد ڈویژن میں 74 اور کراچی ڈویژن میں 68 فیصد نے انتظامی تقسیم کی تائید کی۔ بنبھور، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد اور سکھر میں 59 فیصد نوجوانوں نے حمایت کی۔
لاڑکانہ ڈویژن میں 53 فیصد نے تائید کی۔ ضلعی سطح پر حیدرآباد میں 80 اور کراچی کے تمام اضلاع میں 68 فیصد تائید رہی۔ تاہم لاڑکانہ ضلع میں 58، گھوٹکی میں 56 اور دادو میں 53 فیصد نوجوانوں نے علاقائی سالمیت اور شناخت کے نام پر مخالفت کی۔
خیبر پختونخوا
خیبر پختونخوا میں 75.3 فیصد نوجوانوں نے نئے صوبوں کو ناگزیر قرار دیا جبکہ 24.7 فیصد نے اختلاف کیا۔ بنوں، ہزارہ اور کوہاٹ ڈویژنز میں زبردست 90 فیصد حمایت سامنے آئی۔ ڈی آئی خان اور مردان میں 84 جبکہ پشاور میں 78 فیصد نے تائید کی۔ اضلاع میں ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، کوہاٹ اور خیبر میں حمایت 90 فیصد تک جا پہنچی۔ سوات، مردان، بنوں اور بٹگرام میں 81 فیصد نے تائید کی۔ قبائلی اضلاع باجوڑ، کرم اور وزیرستان میں 75 فیصد نوجوانوں نے بہتر ترقی کے لیے نئے صوبوں کو حل جانا۔
بلوچستان
رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں 71.3 فیصد نوجوانوں نے نئے انتظامی یونٹس کے حق میں آواز اٹھائی۔ کوئٹہ ڈویژن میں 84 فیصد تائید نے ثابت کیا کہ مراکز تک رسائی بنیادی مسئلہ ہے۔ سبی اور ژوب میں 81 جبکہ مکران میں 80 فیصد نوجوانوں نے حمایت کی۔ لورالائی، نصیرآباد اور رخشان میں 71 فیصد نے تائید کی۔ ضلعی سطح پر کوئٹہ میں 88، کیچ میں 82 اور گوادر میں 81 فیصد حمایت ریکارڈ ہوئی۔ قلات ڈویژن میں 54 اور حب میں 58 فیصد نوجوانوں نے مخالفت کی۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان
آزاد کشمیر میں 64 فیصد نے مخالفت اور 36 فیصد نے تائید کی۔ میرپور میں 76، پونچھ میں 72 اور باغ میں 70 فیصد مخالفت رہی۔ گلگت بلتستان میں مجموعی مخالفت 59 اور حمایت 41 فیصد رہی، مگر بلتستان ڈویژن میں 62 فیصد اور اسکردو میں 56 فیصد نوجوانوں نے الگ انتظام کی ضرورت پر زور دیا۔ اسلام آباد میں 74 فیصد رائے دہندگان نے قومی سطح پر نئے صوبوں کو حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کا واحد راستہ قرار دیا۔
رپورٹ کے حتمی شواہد
یہ تمام نتائج سوشل میڈیا، آن لائن مکالموں اور عوامی دستاویزات کے باریک بین تجزیے سے اخذ کیے گئے ہیں۔ تمام شواہد اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ریاستی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، عوامی شکایات کے ازالے اور ترقی کے ثمرات گھر کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے نئے انتظامی صوبوں کا قیام اب ناگزیر ہو چکا ہے۔