پاکستان میں احتجاج کی آڑ میں تشدد، توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک پر حملوں کی روک تھام کے لیے مغربی ممالک جیسا سخت قانونی طریقہ کار اپنانے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ برطانیہ، فرانس اور امریکا کی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ پرتشدد عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت فوری اور سخت کارروائی کی جاتی ہے۔
ماہرینِ قانون کے مطابق پاکستان میں بھی پرتشدد ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف صرف مقدمات درج کرنے کے بجائے فوری تفتیش اور تیز رفتار ٹرائل کے ذریعے سزائیں یقینی بنائی جانی چاہئیں۔
برطانیہ فوری کارروائی
برطانیہ میں جولائی 2024 کے ساؤتھ پورٹ واقعے کے بعد ملک بھر میں پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ مظاہرین نے پولیس پر حملے کیے، توڑ پھوڑ کی اور گاڑیوں کو آگ لگائی۔ پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اگست 2024 تک 1,117 افراد کو گرفتار کر لیا۔
سال کے اختتام تک 912 ملزمان پر عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ مرسی سائیڈ میں 110 افراد کو مجموعی طور پر 210 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ قانون کی گرفت میں 12 سال تک کے کم عمر افراد بھی شامل تھے۔
فرانس میں کارروائی
فرانس میں جون 2023 کے دوران پولیس فائرنگ سے ناہیل نامی نوجوان کی ہلاکت کے بعد شدید بدامنی پھیلی۔ حالات پر قابو پانے کے لیے حکومت نے 45 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے۔ اس دوران 4,200 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
فرانسیسی حکام نے فوری عدالتی کارروائی کا راستہ اپنایا۔ اگست 2023 تک 2,107 ملزمان کے ٹرائل مکمل کیے گئے جن میں سے 1,989 کو مجرم قرار دیا گیا۔ ان میں سے 1,787 افراد کو جیل بھیج دیا گیا۔
امریکا میں 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد وفاقی اداروں نے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی تحقیقات کیں۔ محکمہ انصاف کے مطابق 1,580 سے زیادہ افراد پر باقاعدہ وفاقی الزامات عائد کیے گئے۔
تقریباً 608 افراد پر سکیورٹی اہلکاروں پر حملے اور مزاحمت کے الزامات لگائے گئے۔ اب تک 1,100 سے زائد ملزمان کے مقدمات کے فیصلے ہو چکے ہیں، جنہیں قید، سخت نگرانی اور جرمانوں کی سزائیں دی گئیں۔