وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 24 کروڑ پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے سفارت کاری کو ناگزیر راستہ قرار دیا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ حرمین شریفین پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے۔ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے پر پوری امت مسلمہ رنجیدہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے ساتھ کھڑا ہے۔
مکہ معاہدہ اور بحری سلامتی
شہباز شریف نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ یہ اقدام خطے میں امن اور دفاع کے فروغ کی باہمی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو تنازعات کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے، بلکہ ان تجارتی گزرگاہوں کا کھلا رہنا ضروری ہے۔
سفارتی کردار
وزیراعظم نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کاوشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں اکٹھا کیا۔ انہوں نے سفارتی سطح پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ پائیدار امن صرف مکالمے کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مسئلہ کشمیر
مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اس حل طلب تنازع کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب اور خطے کی خصوصی حیثیت بدلنے کی کوششوں سے باز رہے۔
شہباز شریف نے فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کو غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے دہشت گرد گروہ قرار دیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی افواج کی قربانیوں کا ذکر کیا۔ وزیراعظم نے دو ایٹمی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کا بھی اعتراف کیا۔