ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب دھماکے نے ایک بار پھر وہی سوال کھڑا کر دیا ہے جو خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے پوچھ رہے ہیں: صوبے پر حکمرانی کرنے والی جماعت، پی ٹی آئی، اس بڑھتے ہوئے خون خرابے کے مقابلے میں کہاں کھڑی ہے؟ گیارہ جانیں گئیں، تیس سے زائد زخمی ہوئے، اور یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ اسی درازندہ اور اٹل شریف کی زمین پر مہینوں سے جاری اسی خونریزی کی ایک اور کڑی ہے جس پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اقتدار میں رہتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
یہ خاموشی محض اتفاقی نہیں، یہ ایک ترجیحات کا انتخاب ہے۔ جس دن کے پی کی زمین پر گیارہ لاشیں اٹھیں، اسی دنوں میں صوبے کی سیاسی قیادت کی توانائی دھرنوں، احتجاجی تحریکوں، اور وزیراعلیٰ کی اپنی پارٹی کے بانی سے ملاقاتوں کی خبروں میں صرف ہو رہی ہیں۔ یہ محض ایک تاثر نہیں بلکہ ایک قابلِ پیمائش حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے سیکیورٹی بحران کو وہ سیاسی ترجیح کبھی نہیں بنایا جو اس کے پیمانے کا تقاضا کرتی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور اپیکس کمیٹی کے اجلاس،جو ہم آہنگی کا بنیادی پلیٹ فارم ہیں، مہینوں غائب رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت، جو خود اس فورم کی شریک ہے، نے ان اجلاسوں کو باقاعدہ اور بروقت منعقد کروانے کے لیے کتنا دباؤ ڈالا؟ جواب، اگر دیکھا جائے، تو خاموشی ہی ہے۔
اسی طرح شہیدوں کے جنازوں میں پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کی عدم موجودگی کو محض پروٹوکول کی کوتاہی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک منتخب حکومت کی موجودگی، یا عدم موجودگی، عوام کے لیے ایک واضح پیغام ہوتی ہے کہ حکومت ان کے دکھ میں شریک ہے یا نہیں۔ جب صوبے پر حکمرانی کرنے والی جماعت کی صفِ اول کی قیادت بار بار ان لمحوں سے غائب رہتی ہے، تو یہ بے حسی کا تاثر محض میڈیا کی تخلیق نہیں، بلکہ خود حکومتی طرزِ عمل کا نتیجہ ہے۔
اس تناظر میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، اور جرائم پیشہ گروہوں کے عسکریت پسندوں سے ممکنہ گٹھ جوڑ جیسے مسائل الگ سے سر اٹھا رہے ہیں، اور یہ سب پی ٹی آئی کی حکومتی رِٹ پر سوالیہ نشان ہیں۔ آخر ایک ایسی جماعت جو صوبے میں مسلسل تیسری بار اقتدار میں ہے، اس کے پاس اتنا وقت کیوں نہیں رہا کہ وہ سیکیورٹی اداروں کو اس بحران کے مطابق تیار کر سکے؟
یہاں پی ٹی آئی والے اگر کہتے ہیں کہ وسائل وفاق کے پاس وغیرہ وغیرہ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو اختیارات اور وسائل پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے پاس موجود ہیں۔۔۔ سیاسی توجہ کی ترجیح، اپیکس کمیٹی کے اجلاسوں پر اصرار، جنازوں میں شرکت کی علامتی موجودگی، پولیس اصلاحات کے اعلانات کو عمل میں ڈھالنا۔۔۔۔۔
ان پر بھی حکومت اس شدت سے متحرک کیوں نظر نہیں آئی جتنی شدت سے وہ اپنی سیاسی جنگ لڑنے میں سرگرم دکھائی دیتی ہے؟ جواب اختیارات کی کمی میں نہیں، بلکہ ترجیحات کے تعین میں چھپا نظر آتا ہے۔ اور جب تک یہ ترجیحات نہیں بدلتیں، درازندہ اور اٹل شریف جیسے واقعات محض دہشت گردی کی خبریں نہیں رہیں گے، بلکہ ایک حکمران جماعت کی اپنے صوبے کے تحفظ سے مسلسل غفلت کی علامت بن کر رہ جائیں گے۔