ملک کے دیگر حصوں کے بعد جنوبی وزیرستان سے بھی ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کو الگ صوبہ بنانے اور قبائلی اضلاع کو اس میں شامل کرنے کا مطالبہ سامنے آ گیا ہے۔

September 26, 2026

محسن نقوی نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ کی شقوں پر پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایم پی اے کی گرفتاری پر اسپیکر کی اجازت کی شرط پر کڑے سوالات اٹھا دیے۔

September 26, 2026

خیبر پختونخوا اسمبلی کی چار مخصوص ترامیم دیگر صوبوں سے یکسر مختلف ہونے کے باعث قانونی و عوامی سطح پر تنقید کا مرکز بن گئی ہیں۔

September 26, 2026

خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی بحران، بھتہ خوری اور دہشت گردی کے واقعات کے باوجود صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ سیاسی احتجاج اور دھرنوں تک محدود دکھائی دیتی ہے۔

September 26, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب زوردار دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہو گئے، امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

September 26, 2026

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جہاں نورستان اور کنڑ سمیت مختلف صوبوں میں کارروائیوں اور جھڑپوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔

September 26, 2026

دہشت گردی بمقابلہ سیاسی بقا

خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی بحران، بھتہ خوری اور دہشت گردی کے واقعات کے باوجود صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ سیاسی احتجاج اور دھرنوں تک محدود دکھائی دیتی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان دھماکا

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب دھماکے نے ایک بار پھر وہی سوال کھڑا کر دیا ہے: صوبے پر حکمرانی کرنے والی جماعت اس بڑھتے ہوئے خون خرابے کے مقابلے میں کہاں کھڑی ہے؟

September 26, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب دھماکے نے ایک بار پھر وہی سوال کھڑا کر دیا ہے جو خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے پوچھ رہے ہیں: صوبے پر حکمرانی کرنے والی جماعت، پی ٹی آئی، اس بڑھتے ہوئے خون خرابے کے مقابلے میں کہاں کھڑی ہے؟ گیارہ جانیں گئیں، تیس سے زائد زخمی ہوئے، اور یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ اسی درازندہ اور اٹل شریف کی زمین پر مہینوں سے جاری اسی خونریزی کی ایک اور کڑی ہے جس پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اقتدار میں رہتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

یہ خاموشی محض اتفاقی نہیں، یہ ایک ترجیحات کا انتخاب ہے۔ جس دن کے پی کی زمین پر گیارہ لاشیں اٹھیں، اسی دنوں میں صوبے کی سیاسی قیادت کی توانائی دھرنوں، احتجاجی تحریکوں، اور وزیراعلیٰ کی اپنی پارٹی کے بانی سے ملاقاتوں کی خبروں میں صرف ہو رہی ہیں۔ یہ محض ایک تاثر نہیں بلکہ ایک قابلِ پیمائش حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے سیکیورٹی بحران کو وہ سیاسی ترجیح کبھی نہیں بنایا جو اس کے پیمانے کا تقاضا کرتی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور اپیکس کمیٹی کے اجلاس،جو ہم آہنگی کا بنیادی پلیٹ فارم ہیں، مہینوں غائب رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت، جو خود اس فورم کی شریک ہے، نے ان اجلاسوں کو باقاعدہ اور بروقت منعقد کروانے کے لیے کتنا دباؤ ڈالا؟ جواب، اگر دیکھا جائے، تو خاموشی ہی ہے۔

اسی طرح شہیدوں کے جنازوں میں پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کی عدم موجودگی کو محض پروٹوکول کی کوتاہی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک منتخب حکومت کی موجودگی، یا عدم موجودگی، عوام کے لیے ایک واضح پیغام ہوتی ہے کہ حکومت ان کے دکھ میں شریک ہے یا نہیں۔ جب صوبے پر حکمرانی کرنے والی جماعت کی صفِ اول کی قیادت بار بار ان لمحوں سے غائب رہتی ہے، تو یہ بے حسی کا تاثر محض میڈیا کی تخلیق نہیں، بلکہ خود حکومتی طرزِ عمل کا نتیجہ ہے۔

اس تناظر میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، اور جرائم پیشہ گروہوں کے عسکریت پسندوں سے ممکنہ گٹھ جوڑ جیسے مسائل الگ سے سر اٹھا رہے ہیں، اور یہ سب پی ٹی آئی کی حکومتی رِٹ پر سوالیہ نشان ہیں۔ آخر ایک ایسی جماعت جو صوبے میں مسلسل تیسری بار اقتدار میں ہے، اس کے پاس اتنا وقت کیوں نہیں رہا کہ وہ سیکیورٹی اداروں کو اس بحران کے مطابق تیار کر سکے؟

یہاں پی ٹی آئی والے اگر کہتے ہیں کہ وسائل وفاق کے پاس وغیرہ وغیرہ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو اختیارات اور وسائل پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے پاس موجود ہیں۔۔۔ سیاسی توجہ کی ترجیح، اپیکس کمیٹی کے اجلاسوں پر اصرار، جنازوں میں شرکت کی علامتی موجودگی، پولیس اصلاحات کے اعلانات کو عمل میں ڈھالنا۔۔۔۔۔

ان پر بھی حکومت اس شدت سے متحرک کیوں نظر نہیں آئی جتنی شدت سے وہ اپنی سیاسی جنگ لڑنے میں سرگرم دکھائی دیتی ہے؟ جواب اختیارات کی کمی میں نہیں، بلکہ ترجیحات کے تعین میں چھپا نظر آتا ہے۔ اور جب تک یہ ترجیحات نہیں بدلتیں، درازندہ اور اٹل شریف جیسے واقعات محض دہشت گردی کی خبریں نہیں رہیں گے، بلکہ ایک حکمران جماعت کی اپنے صوبے کے تحفظ سے مسلسل غفلت کی علامت بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

ملک کے دیگر حصوں کے بعد جنوبی وزیرستان سے بھی ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کو الگ صوبہ بنانے اور قبائلی اضلاع کو اس میں شامل کرنے کا مطالبہ سامنے آ گیا ہے۔

September 26, 2026

محسن نقوی نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ کی شقوں پر پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایم پی اے کی گرفتاری پر اسپیکر کی اجازت کی شرط پر کڑے سوالات اٹھا دیے۔

September 26, 2026

خیبر پختونخوا اسمبلی کی چار مخصوص ترامیم دیگر صوبوں سے یکسر مختلف ہونے کے باعث قانونی و عوامی سطح پر تنقید کا مرکز بن گئی ہیں۔

September 26, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب زوردار دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہو گئے، امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

September 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *