ملک میں نئے انتظامی صوبوں کے قیام کی گونج اب قبائلی علاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور ہزارہ کے بعد جنوبی وزیرستان سے بھی الگ صوبے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ وانا کے مقامی عمائدین اور شہریوں نے ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن پر مشتمل الگ صوبہ قائم کرنے اور اس میں اپر و لوئر جنوبی وزیرستان کو شامل کرنے کی بھرپور حمایت کی ہے۔
شہریوں نے اپنے مؤقف میں انتظامی اور جغرافیائی پیچیدگیوں کو بنیادی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وانا سے پشاور تک کا سفر تقریباً 14 سے 15 گھنٹے پر محیط ہے۔ سول سیکرٹریٹ اور صوبائی دارالحکومت کی اس طویل مسافت کے باعث قبائلی اضلاع کے عوام روزمرہ دفتری کاموں میں شدید مشکلات برداشت کر رہے ہیں۔
مقامی عمائدین کا مؤقف ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کو نیا صوبائی دارالحکومت بنانے سے عوام کو واضح ریلیف ملے گا۔ اس اقدام سے قبائلی علاقوں کے شہریوں کی بیوروکریسی اور اعلیٰ حکام تک رسائی نہایت سہل ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں انتظامی مسائل فوری اور مقامی سطح پر حل ہو سکیں گے۔
قبائلی نمائندوں نے شمالی و جنوبی وزیرستان بالخصوص وانا کو بااختیار انتظامی یونٹ بنانے پر زور دیا۔ ان کے مطابق ڈویژنل بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام تعلیمی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع لائے گا۔ عمائدین نے نئے انتظامی صوبوں سے متعلق پالیسی اپروچ کو خطے کی پائیدار خوشحالی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔