اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی مندوب کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات اور قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی و دفاعی مبصرین نے اس عمل کو پی ٹی آئی اور بھارتی پروپیگنڈے کا واضح گٹھ جوڑ قرار دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق اقوامِ متحدہ میں بھارتی فرسٹ سیکرٹری پیٹل گہلوٹ نے بعینہ وہی الفاظ استعمال کیے جو پاکستان تحریک انصاف ملکی و بین الاقوامی فورمز پر دہراتی رہی ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا مؤقف اب بھارتی ایوانوں اور فورمز میں گونج رہا ہے۔
جنرل اسمبلی میں فارم 47 کے جنرل کی مٹی پلید ۔۔
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) September 26, 2026
بھارتی فرسٹ سیکرٹری پیٹل گہلوٹ نے شہباز حکومت کو فارم 47 کی حکومت قرار دیا انہوں نے کہا کہ یہ فوج کی حکومت ہے یہ فوج کے ذریعے ہے اور فوج کے لیے ہے انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے ذریعے حقیقی حکمران عاصم منیر کو تاحیات استثنی دیا گیا pic.twitter.com/0y9SEkhv8x
دفاعی تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ بھارت، پاکستان کے عسکری اداروں اور آئینی ترامیم کے خلاف زہر افشانی کے لیے پی ٹی آئی کے بیانیے کا سہارا لے رہا ہے۔ یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے موقف کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔
شدید عوامی اور سیاسی ردِعمل
عوامی اور سیاسی حلقوں نے اس گٹھ جوڑ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ بیرونی محاذ پر ملکی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے اندرونی سیاسی بیانیے کا استعمال افسوسناک ہے، جس کا مقصد محض قومی سلامتی کے اداروں کو متنازع بنانا ہے۔