حوثی قیادت کی جانب سے حرمین شریفین اور اسلامی مقدسات سے متعلق سامنے آنے والے حالیہ بیانات پر عالمِ اسلام کے دینی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے گہری تشویش اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ مسلم مفکرین اور مذہبی رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اب ان حوثیوں کے اصل مقاصد اور گمراہ کن پراپیگنڈے کو کھل کر پہچاننا ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حوثی قیادت کی جانب سے خود کو مقدسات کا ہمدرد ظاہر کرنا اور الزامات کی آڑ میں سیاسی فائدہ سمیٹنے کی کوشش کرنا دراصل شعائرِ اسلام کی کھلی توہین کے مترادف ہے۔ حرمین شریفین کا تقدس ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ہے، جسے کسی صورت عسکری مہم جوئی یا فتنہ انگیزی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مختلف اسلامی تنظیموں کے نمائندوں نے زور دیا ہے کہ امت مسلمہ کو یکسو ہو کر ان عناصر کے ناپاک عزائم کو سمجھنا ہو گا جو اپنے مفادات کے لیے اسلامی تاریخ اور مذہبی علامتوں کو مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقدس مقامات کا حقیقی دفاع ان کے تقدس کو سیاست اور جنگ و جدل سے پاک رکھنے میں ہے۔
عالمِ اسلام کے علما نے تمام مسلمانوں سے بیدار مغزی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے من گھڑت بیانات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کر دیں، کیونکہ بیت اللہ اور مکہ مکرمہ کا امن پوری امت کا مشترکہ سرمایہ ہے جس پر کوئی سودے بازی ممکن نہیں۔
دیکھیے: حوثیوں نے مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے گرڈ اسٹیشن کو نشانہ بنایا؛ سعودی فوج